سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فِي فَضْلِ الرِّبَاطِ
باب: سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2500]
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کا عمل (اس کے مرنے پر) ختم ہو جاتا ہے، مگر مورچہ بند کہ اس کا عمل قیامت تک کے لیے بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب سے (یا منکر و نکیر کے سوال جواب) سے امن میں رہتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 2 (1621)، (تحفة الأشراف: 11032)، وقد أخرجہ: (حم 6/20، 22) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3823)
أخرجه الترمذي (1621 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3823)
أخرجه الترمذي (1621 وسنده حسن)