سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في الجرأة والجبن
باب: بہادری اور بزدلی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2511]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”انسان میں دو وصف بہت برے ہوتے ہیں: ایک یہ کہ حریص و بخیل ہونے کے ساتھ ساتھ دل کا کچا ہو، دوسرا یہ کہ اتنا بزدل ہو کہ گویا دل ہی نکل جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14101)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/302، 320) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1874)
مشكوة المصابيح (1874)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2511
| شر ما في رجل شح هالع وجبن خالع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2511 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2511
فوائد ومسائل:
کسی انسان میں حرص اور بخل دونوں کیفتیں جمع ہوں۔
تو اس کو (شح) کہتے ہیں۔
(ھلع) کی وضاحت قرآن کریم میں یوں آئی ہے۔
(إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا) (المعارج۔
19۔
21) بے شک آدمی جی کا بنا ہے کچا۔
جب پہنچے اس کو بُرائی تو بے صبر اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو نادہند
کسی انسان میں حرص اور بخل دونوں کیفتیں جمع ہوں۔
تو اس کو (شح) کہتے ہیں۔
(ھلع) کی وضاحت قرآن کریم میں یوں آئی ہے۔
(إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا) (المعارج۔
19۔
21) بے شک آدمی جی کا بنا ہے کچا۔
جب پہنچے اس کو بُرائی تو بے صبر اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو نادہند
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2511]
Sunan Abi Dawud Hadith 2511 in Urdu
عبد العزيز بن مروان الأموي ← أبو هريرة الدوسي