سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب في الغزو مع أئمة الجور
باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2533
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14619) (ضعیف)» (مکحول کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الترمذي (3201) : ’’ ليس إسناده بمتصل،مكحول لم يسمع من أبي هريرة ‘‘ و تقدم طرفه (594)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
إسناده ضعيف
قال الترمذي (3201) : ’’ ليس إسناده بمتصل،مكحول لم يسمع من أبي هريرة ‘‘ و تقدم طرفه (594)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2533
| الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا كان أو فاجرا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2533 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2533
فوائد ومسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
ان میں کچھ باتیں صحیح ہیں۔
جن کی تایئد دوسری صحیح روایات سے ہوتی ہے۔
اور کچھ باتیں صحیح نہیں ہیں۔
بہر حال یہ دونوں روایات مدار استدلال نہیں ہیں۔
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
ان میں کچھ باتیں صحیح ہیں۔
جن کی تایئد دوسری صحیح روایات سے ہوتی ہے۔
اور کچھ باتیں صحیح نہیں ہیں۔
بہر حال یہ دونوں روایات مدار استدلال نہیں ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2533]
مكحول بن أبي مسلم الشامي ← أبو هريرة الدوسي