🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب في الرجل يغزو يلتمس الأجر والغنيمة
باب: ثواب اور مال غنیمت کی نیت سے جہاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2535
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ، أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ، فَقَالَ لِي: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَغْنَمَ عَلَى أَقْدَامِنَا فَرَجَعْنَا، فَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا فَقَامَ فِينَا فَقَالَ:" اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ قَالَ: عَلَى هَامَتِي، ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ أَرْضَ الْمُقَدَّسَةِ، فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنَ النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ حِمْصِيٌّ.
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات (کے ظہور کا وقت) قریب آ گیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2535]
ابن زغب ایادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے مہمان بنے تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پیدل (جہاد کے لیے) روانہ فرمایا تاکہ کوئی غنیمت حاصل کر لائیں، پس ہم واپس آئے اور ہمیں کوئی غنیمت نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشقت اور غمی کے آثار ہمارے چہروں پر دیکھے تو کھڑے ہوئے اور (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ» اے اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کر دے کہ ان کی کفالت سے عاجز رہوں اور نہ انہیں ان کی اپنی جانوں کے سپرد کر دے کہ اپنی کفالت سے عاجز رہیں اور نہ انہیں لوگوں کے سپرد کر دینا کہ وہ اپنے آپ ہی کو ترجیح دینے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدس (شام) تک پہنچ گئی ہے تو زلزلے آنے لگیں گے، مصیبتیں ٹوٹیں گی، (علاوہ ازیں) اور بھی بڑی بڑی علامتیں ظاہر ہوں گی اور قیامت اس وقت لوگوں کے اس سے زیادہ قریب ہو گی جتنا کہ میرا ہاتھ تمہارے سر پر ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کا تعلق حمص سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/288) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5449)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن حوالة الأزدي، أبو محمد، أبو حوالةصحابي
👤←👥عبد الله بن زغب الإيادي
Newعبد الله بن زغب الإيادي ← عبد الله بن حوالة الأزدي
صحابي
👤←👥ضمرة بن حبيب الزبيدي، أبو بشر، أبو عتبة
Newضمرة بن حبيب الزبيدي ← عبد الله بن زغب الإيادي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← ضمرة بن حبيب الزبيدي
صدوق له أوهام
👤←👥أسد بن موسى الأموي، أبو سعيد
Newأسد بن موسى الأموي ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← أسد بن موسى الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2535
اللهم لا تكلهم إلي فأضعف عنهم ولا تكلهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها ولا تكلهم إلى الناس فيستأثروا عليهم إذا رأيت الخلافة قد نزلت أرض المقدسة فقد دنت الزلازل والبلابل والأمور العظام والساعة يومئذ أقرب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2535 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2535
فوائد ومسائل:

جہاد میں اجر وثواب کے ساتھ ساتھ غنیمت کی توقع رکھنا کوئی معیوب نہیں۔
بشرط یہ کہ یہ نیت ہی اصل مقصود نہ ہو اتنا ضرور ہے کہ یہ غنیمت حاصل ہونے سے آخرت کے اجر میں کمی آجاتی ہے۔
جیسے کہ (باب في السریة تخفق) حدیث 2497) میں گزرا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے مال کو انسان کےلئے گزران کا ایک اہم سبب بنایا ہے جب کہ حقیقی کفیل خود اللہ عزوجل ہے۔
اگر وہ اسباب مہیا نہ فرمائے۔
اور ان میں برکت نہ دے تو کائنات کے تمام افراد اور اس کے کل اسباب پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔


مستقبل کے امور غیبہ کی خبریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں۔
کہ فتح بیت المقدس کے بعد سے دنیا میں اور امت اسلامیہ میں مذکورہ بالاعلامات تواتر سے ظاہر ہورہی ہیں۔


قیامت ازحد قریب ہے۔
لہذا ہر انسان کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2535]

Sunan Abi Dawud Hadith 2535 in Urdu