سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب في الدابة تعرقب في الحرب
باب: جانور کی کونچ لڑائی میں کاٹ دئیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْن عَبَّادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي وَهُوَ أَحَدُ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزَاةِ مُؤْتَةَ قَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ۱؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2573]
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے رضاعی باپ سے روایت کرتے ہیں جو کہ بنی مرہ میں سے تھے اور غزوہ موتہ میں شریک ہوئے تھے۔ کہتے ہیں: ”قسم اللہ کی! میں گویا سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سرخ گھوڑے سے اتر پڑے، اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ پھر کافروں سے لڑتے رہے حتیٰ کہ خود قتل ہو گئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث قوی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15602) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کونچ وہ موٹا پٹھا جو آدمی کے ایڑی کے اوپر اور چوپایوں کے ٹخنے کے نیچے ہوتا ہے، گھوڑے کی کونچ اس لئے کاٹ دی گئیں تا کہ دشمن اس گھوڑے کے ذریعہ مسلمانوں پر حملہ نہ کر سکے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑائی میں سامان کے سلسلہ میں یہ اندیشہ ہو کہ دشمن کے ہاتھ میں آ کر اس کی تقویت کا سبب بنے گا تو اسے تلف کر ڈالنا درست ہے۔
۲؎: شاید مؤلف نے اس بنیاد پر اس حدیث کو غیر قوی قرار دیا ہے کہ عباد کے رضاعی باپ مبہم ہیں، لیکن یہ صحابی بھی ہو سکتے ہیں، اور یہی ظاہر ہے، اسی بنا پر البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے، (حسن اس لئے کہ ”ابن اسحاق“ درجہ حسن کے راوی ہیں)
۲؎: شاید مؤلف نے اس بنیاد پر اس حدیث کو غیر قوی قرار دیا ہے کہ عباد کے رضاعی باپ مبہم ہیں، لیکن یہ صحابی بھی ہو سکتے ہیں، اور یہی ظاہر ہے، اسی بنا پر البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے، (حسن اس لئے کہ ”ابن اسحاق“ درجہ حسن کے راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني مرة بن عوف : لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
إسناده ضعيف
رجل من بني مرة بن عوف : لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2573 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2573
فوائد ومسائل:
جنگ میں اگر اندیشہ ہوکہ مجاہد مغلوب ہوجائے گا۔
تو اپنی سواری یا دوسرے سامان کو تلف کردے تو جائز ہے۔
تاکہ دشمن اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
شیخ البانی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
جنگ میں اگر اندیشہ ہوکہ مجاہد مغلوب ہوجائے گا۔
تو اپنی سواری یا دوسرے سامان کو تلف کردے تو جائز ہے۔
تاکہ دشمن اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
شیخ البانی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2573]
Sunan Abi Dawud Hadith 2573 in Urdu
عباد بن عبد الله القرشي ← اسم مبهم