سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب في الحائض تناول من المسجد
باب: حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 2 (298)، سنن الترمذی/الطھارة 101 (134)، سنن النسائی/الطھارة 173 (272)، والحیض 18 (384)، (تحفة الأشراف: 17446)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 120 (632)، مسند احمد (6/45، 101، 112، 114، 173، 214، 229، 245) سنن الدارمی/الطھارة 81 (798) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (298)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
134
| حيضتك ليست في يدك |
سنن النسائى الصغرى |
384
| ناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك |
سنن النسائى الصغرى |
272
| ناوليني الخمرة من المسجد قالت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك |
سنن أبي داود |
261
| حيضتك ليست في يدك |
صحيح مسلم |
689
| ناوليني الخمرة من المسجد قالت فقلت إني حائض فقال إن حيضتك ليست في يدك |
صحيح مسلم |
690
| الحيضة ليست في يدك |
سنن ابن ماجه |
632
| ناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال ليست حيضتك في يدك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 261 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 261
261. اردو حاشیہ:
اس حدیث کے الفاظ میں «من المسجد» کا تعلق دو کلمات سے ہو سکتا ہے «ناوليني» سے اس صورت میں ترجمہ ہو گا ”مجھے مسجد میں سے اٹھا کر لا دو۔“ دوسرا «”قال“» سے تو ترجمہ ہو گا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے کہا کہ مجھے چٹائی پکڑا دو۔“
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
اس حدیث کے الفاظ میں «من المسجد» کا تعلق دو کلمات سے ہو سکتا ہے «ناوليني» سے اس صورت میں ترجمہ ہو گا ”مجھے مسجد میں سے اٹھا کر لا دو۔“ دوسرا «”قال“» سے تو ترجمہ ہو گا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے کہا کہ مجھے چٹائی پکڑا دو۔“
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 261]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 384
حائضہ سے کام لینے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
384۔ اردو حاشیہ: امام اسحاق بن ابراہیم اس حدیث میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دوسرے استاد ہیں اور انہوں نے یہ حدیث جریر سے بیان فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت جریر کے علاوہ ابومعاویہ نے بھی اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 384]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 272
حائضہ سے کام لینے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی دے دو“، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی دے دو“، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
272۔ اردو حاشیہ: حیض اور جنابت کی حالت میں کسی اشد ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہوا جا سکتا ہے، البتہ اس حالت میں مسجد میں ٹھہرنا نادرست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”میں حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔“ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 232]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 272]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث632
حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو“، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
اردو حاشہ:
(1)
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
(1)
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 632]
Sunan Abi Dawud Hadith 261 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق