🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
92. باب بعث العيون
باب: جاسوس بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 41 (1901)، مسند احمد (3/136، (تحفة الأشراف: 408) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1901)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثقة
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← سليمان بن المغيرة القيسي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4915
إن لنا طلبة فمن كان ظهره حاضرا فليركب معنا فجعل رجال يستأذنونه في ظهرانهم في عل والمدينة فقال لا إلا من كان ظهره حاضرا فانطلق رسول الله وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر وجاء المشركون فقال رسول الله لا يقدمن أحد منكم إلى شيء حتى أكون أنا دونه فدنا المشرك
سنن أبي داود
2618
بعث النبي بسبسة عينا ينظر ما صنعت عير أبي سفيان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2618 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2618
فوائد ومسائل:
مسلمانوں میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا حرام ہے۔
الا یہ کہ امیر المومنین اصلاح احوال کےلئے ان کے بعض امور کی ٹوہ لگائےتو جائز ہے۔
تاہم دشمن کے احوال کی خبر لینے کے لئے یہ عمل سیاستاً واجب ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2618]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4915
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جاسوس بنا کر روانہ فرمایا تاکہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کے حالات کا جائزہ لے، وہ واپس آیا تو میرے سوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا گھر میں کوئی نہ تھا، ثابت کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کو مستثنیٰ کیا تھا، اس نے آپ کو واقعہ سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4915]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
طلبه:
مطلوبہ ضرورت۔
قرن:
ترکش فوائد ومسائل:
ابو سفیان ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے واپس آ رہا تھا،
جس کے ساتھ صرف تیس چالیس آدمی تھے،
آپ نے اس کے حالات سے آگاہی کے لیے جاسوس روانہ کیا،
پھر اس کی رپورٹ پر مطلوبہ چیز سے آگاہ کیے بغیر نکلنے کا حکم دیا تاکہ خبر عام نہ ہو جائے اور فوری تعاقب کی بنا پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے کچھ توقف نہیں کیا اور قافلہ کا تعاقب مطلوب تھا،
اس لیے،
اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اور تیاری نہیں کی اور حضرت عمیر نے جنتی ہونے کی پیش گوئی سن کر چند کھجوریں کھانے کے لیے وقت صرف کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور انہیں پھینک کر وہاں جانے کے لیے دشمن سے جا ٹکرائے،
لیکن اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کہ آپ کو یہ پتہ تھا کون جنتی ہے اور کون دوزخی ہے،
کیونکہ اس کا مدار وحی پر تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4915]