علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. باب في دعاء المشركين
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2633
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الْقِتَالِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ نَبِيلٌ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيهِ أَحَدٌ.
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا (اس کے بعد) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کر لیا ۱؎، اور جویریہ بنت الحارث ۲؎ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 13(2541)، صحیح مسلم/الجھاد 1 (1730)، (تحفة الأشراف: 7744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/31، 32، 51) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جن کافروں اور مشرکوں تک اسلام کی دعوت ان پر حملہ سے پہلے پہنچ چکی ہو تو انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنے سے پہلے ان سے قتال جائز ہے۔
۲؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں، ان کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔
۲؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں، ان کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2541) صحيح مسلم (1730)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2633 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2633
فوائد ومسائل:
1۔
جن لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کی دعوت پہنچ چکی ہو۔
بوقت قتال ان کو دعوت دینا کوئی ضروری نہیں ہے۔
اور جنہیں نہ پہنچی ہو تو انہیں دی جانی چاہیے۔
2۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرکے اپنے حرم میں شامل کر لیا تھا۔
1۔
جن لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کی دعوت پہنچ چکی ہو۔
بوقت قتال ان کو دعوت دینا کوئی ضروری نہیں ہے۔
اور جنہیں نہ پہنچی ہو تو انہیں دی جانی چاہیے۔
2۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرکے اپنے حرم میں شامل کر لیا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2633]
Sunan Abi Dawud Hadith 2633 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي