سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب في كراهية تمني لقاء العدو
باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو اور تمنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ، وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِي السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ".
عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“، پھر فرمایا: ”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 98 (2933)، والمغازي 29 (4115)، والدعوات 57 (6392)، والتمني 8 (7237)، والتوحید 34 (7489)، صحیح مسلم/الجھاد 7 (1742)، (تحفة الأشراف: 5161)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد 8 (1678)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 15 (2796)، مسند احمد 4/354) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3024) صحيح مسلم (1742)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥سالم بن أبي أمية القرشي، أبو النضر سالم بن أبي أمية القرشي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي | ثقة ثبت | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← سالم بن أبي أمية القرشي | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الفزاري ← موسى بن عقبة القرشي | إمام ثقة حافظ | |
👤←👥محبوب بن موسى الأنطاكي، أبو صالح محبوب بن موسى الأنطاكي ← إبراهيم بن محمد الفزاري | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2833
| إذا لقيتموهم فاصبروا |
صحيح البخاري |
7237
| لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية |
صحيح البخاري |
3025
| لا تمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية إذا لقيتموهم فاصبروا الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم |
صحيح البخاري |
2966
| لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية إذا لقيتموهم فاصبروا الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم |
صحيح مسلم |
4542
| لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية إذا لقيتموهم فاصبروا الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم |
سنن أبي داود |
2631
| لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية إذا لقيتموهم فاصبروا الجنة تحت ظلال السيوف اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2631 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2631
فوائد ومسائل:
1۔
جنگ کوئی عام کھیل نہیں جب اس سے واسطہ پڑتا ہے۔
تو حقیقت کھلتی ہے۔
کہ انسان ایمان اور بہادری کے کس معیار پر ہے۔
اس لئے آرزو یہ ہونی چاہیے کہ یہ موقع ہی نہ آئےتو اچھا ہے۔
مگر جب دوبدو ہونا لازمی ٹھہرے۔
تواللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی قوت وبسالت کا بھر پور اظہار کرنا چاہیے۔
شہادت کی تمنا بھی اسی طرح ہے۔
کہ موقع آنے پر انسان سردھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہ کرے۔
مگر بے موقع یا بے مقصد جان دے دینا تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔
2۔
حروری خارجیوں کاایک نام ہے۔
کیونکہ یہ لوگ صفین سے واپس آئے۔
تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے الگ ہوکر کوفہ سے باہر مضافات میں حرورا نام کے ایک مقام پرجمع ہوگئے۔
اور یہی ان کا پہلا مرکز تھا۔
اس کی طرف نسبت سے یہ لوگ حروری کہلائے۔
1۔
جنگ کوئی عام کھیل نہیں جب اس سے واسطہ پڑتا ہے۔
تو حقیقت کھلتی ہے۔
کہ انسان ایمان اور بہادری کے کس معیار پر ہے۔
اس لئے آرزو یہ ہونی چاہیے کہ یہ موقع ہی نہ آئےتو اچھا ہے۔
مگر جب دوبدو ہونا لازمی ٹھہرے۔
تواللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی قوت وبسالت کا بھر پور اظہار کرنا چاہیے۔
شہادت کی تمنا بھی اسی طرح ہے۔
کہ موقع آنے پر انسان سردھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہ کرے۔
مگر بے موقع یا بے مقصد جان دے دینا تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔
2۔
حروری خارجیوں کاایک نام ہے۔
کیونکہ یہ لوگ صفین سے واپس آئے۔
تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے الگ ہوکر کوفہ سے باہر مضافات میں حرورا نام کے ایک مقام پرجمع ہوگئے۔
اور یہی ان کا پہلا مرکز تھا۔
اس کی طرف نسبت سے یہ لوگ حروری کہلائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2631]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4542
حضرت عبداللہ بن ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے عمر بن عبیداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جب وہ خوارج سے جنگ کے لیے نکلا آگاہی کے لیے یہ خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلتے تو سورج ڈھلنے کا انتظار فرماتے، جب سورج ڈھل جاتا تو یہ خطاب فرماتے، ”اے لوگو، دشمن سے مڈ بھیڑ کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت کی درخواست کرو اور جب دشمن سے ٹکراؤ ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور یقین کر لو، جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔“ پھر آپ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4542]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
دشمن سے مقابلہ کی صورت میں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا آغاز صبح کی نماز کے بعد فرماتے تھے،
کیونکہ صبح کی نماز میں پیچھے رہنے والے مسلمان دعائے قنوت نازلہ کے ذریعہ مسلمانوں کی فتح و نصرت اور دشمن کی ہزیمت،
مغلوبیت کی اللہ کے حضور درخواست کرتے ہیں اور صبح کے وقت انسان تازہ دم اور چاک و چوبند ہوتا ہے،
اگر لڑائی کا آغاز صبح کو نہ ہو سکتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کا انتظار فرماتے،
تاکہ مسلمان نماز ظہر میں قنوت نازلہ کر لیں اور ہوا کے چلنے سے دھوپ کی حدت و تپش میں کمی آ جائے اور مسلمان پوری دلجمعی کے ساتھ لڑائی میں شریک ہو جائیں۔
الجنة تحت ظلال السيوف:
اس میں انتہائی اختصار کے ساتھ،
انتہائی موثر انداز میں،
جہاں کا ثواب بیان کر کے،
اتحاد و اتفاق کی فضاء میں اپنے دور کا اسلحہ استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور آخر میں دعا کے ذریعہ اللہ کی نصرت و حمایت کے اسباب کے حصول کے ذریعہ مجاہدوں کے حوصلہ کو بڑھایا ہے کہ وہ کتاب اتارنے والا ہے،
جس میں مسلمانوں کی نصرت کا وعدہ ہے کہ وہ بادلوں کو چلانے والا ہے کہ وہ قدرت کاملہ کا مالک ہے،
کائنات کے ظاہری اسباب سے جو چاہے کام لے سکتا ہے اور ان کے ذریعہ دشمن کو ہزیمت سے دوچار کر سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
دشمن سے مقابلہ کی صورت میں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا آغاز صبح کی نماز کے بعد فرماتے تھے،
کیونکہ صبح کی نماز میں پیچھے رہنے والے مسلمان دعائے قنوت نازلہ کے ذریعہ مسلمانوں کی فتح و نصرت اور دشمن کی ہزیمت،
مغلوبیت کی اللہ کے حضور درخواست کرتے ہیں اور صبح کے وقت انسان تازہ دم اور چاک و چوبند ہوتا ہے،
اگر لڑائی کا آغاز صبح کو نہ ہو سکتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کا انتظار فرماتے،
تاکہ مسلمان نماز ظہر میں قنوت نازلہ کر لیں اور ہوا کے چلنے سے دھوپ کی حدت و تپش میں کمی آ جائے اور مسلمان پوری دلجمعی کے ساتھ لڑائی میں شریک ہو جائیں۔
الجنة تحت ظلال السيوف:
اس میں انتہائی اختصار کے ساتھ،
انتہائی موثر انداز میں،
جہاں کا ثواب بیان کر کے،
اتحاد و اتفاق کی فضاء میں اپنے دور کا اسلحہ استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور آخر میں دعا کے ذریعہ اللہ کی نصرت و حمایت کے اسباب کے حصول کے ذریعہ مجاہدوں کے حوصلہ کو بڑھایا ہے کہ وہ کتاب اتارنے والا ہے،
جس میں مسلمانوں کی نصرت کا وعدہ ہے کہ وہ بادلوں کو چلانے والا ہے کہ وہ قدرت کاملہ کا مالک ہے،
کائنات کے ظاہری اسباب سے جو چاہے کام لے سکتا ہے اور ان کے ذریعہ دشمن کو ہزیمت سے دوچار کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4542]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2833
2833. حضرت ابو نضرسالم سے روایت ہے، کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی ؓنے تحریر لکھی جسے میں نے خود پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دشمن سے تمھاری مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2833]
حدیث حاشیہ:
یعنی مستقل مزاجی کے ساتھ جمے رہو اور حالات جیسے بھی ہوں بد دل ہرگز نہ ہو‘ بزدلی یا فرار مومن کی شان نہیں۔
اگر موت مقدر نہیں ہے تو یقیناً سلامتی کے ساتھ واپسی ہوگی اور موت مقدر ہے تو کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔
یہی ایمان اور یقین ہے جو مرد مومن کو غازی یا شہید کے معزز القاب سے ملقب کرتا ہے۔
ارشادِ باری ہے ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا سْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾ (البقرة: 153)
ترجمہ:
اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو‘ بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یعنی مستقل مزاجی کے ساتھ جمے رہو اور حالات جیسے بھی ہوں بد دل ہرگز نہ ہو‘ بزدلی یا فرار مومن کی شان نہیں۔
اگر موت مقدر نہیں ہے تو یقیناً سلامتی کے ساتھ واپسی ہوگی اور موت مقدر ہے تو کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔
یہی ایمان اور یقین ہے جو مرد مومن کو غازی یا شہید کے معزز القاب سے ملقب کرتا ہے۔
ارشادِ باری ہے ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا سْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾ (البقرة: 153)
ترجمہ:
اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو‘ بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2833]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2966
2966. حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ ؓ ہی سے روایت ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! دشمن سے مقابلے کی آرزونہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔ لیکن اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اورخوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ پھر آپ نے یوں دعا کی: ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، (کافروں کے)لشکروں کو شکست دینے والے، انھیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2966]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ جہاں تک ممکن ہو لڑائی کو ٹالنا اچھا ہے۔
اگر کوئی صلح کی عمدہ صورت نکل سکے۔
کیونکہ اسلام فتنہ و فساد کے سخت خلاف ہے۔
ہاں جب کوئی صورت نہ بنے اور دشمن مقابلہ ہی پر آمادہ ہو تو جم کر اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور ایسے موقعہ پر اس دعائے مسنونہ کا پڑھنا ضروری ہے جو یہاں مذکور ہوئی ہے۔
یعنی اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ،اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ وانصُرنَا علیھِم جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
اس کا مطلب یہ کہ جنت کے لئے مالی و جانی قربانی کی ضرورت ہے جنت کا سودا کوئی سستا سودا نہیں ہے۔
جیسا کہ آیت قرآن ﴿اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّة﴾ (التوبة: 111)
میں مذکور ہے۔
معلوم ہوا کہ جہاں تک ممکن ہو لڑائی کو ٹالنا اچھا ہے۔
اگر کوئی صلح کی عمدہ صورت نکل سکے۔
کیونکہ اسلام فتنہ و فساد کے سخت خلاف ہے۔
ہاں جب کوئی صورت نہ بنے اور دشمن مقابلہ ہی پر آمادہ ہو تو جم کر اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور ایسے موقعہ پر اس دعائے مسنونہ کا پڑھنا ضروری ہے جو یہاں مذکور ہوئی ہے۔
یعنی اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ،اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ وانصُرنَا علیھِم جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
اس کا مطلب یہ کہ جنت کے لئے مالی و جانی قربانی کی ضرورت ہے جنت کا سودا کوئی سستا سودا نہیں ہے۔
جیسا کہ آیت قرآن ﴿اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّة﴾ (التوبة: 111)
میں مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2966]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2833
2833. حضرت ابو نضرسالم سے روایت ہے، کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی ؓنے تحریر لکھی جسے میں نے خود پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دشمن سے تمھاری مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2833]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس کامطلب یہ ہے کہ ایسے حالات میں مستقل مزاجی کے ساتھ جمے رہو اور حالات جیسے بھی ہوں بددل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بزدلی اور فرارمومن کی شان نہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ”اے ایمان والو!جب کسی گروں سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو،اللہ کو بکثرت یاد کیاکرو تاکہ تم کامیاب رہو۔
“ (الأنفال: 45/8)
2۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ دوران جنگ میں اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا ثابت قدمی کا باعث ہے اور کامیابی کا راز ہے۔
حدیث میں صبر سے مراد یہی ہے کہ ذکر الٰہی سے اپنے دل کومطمئن رکھو۔
1۔
اس کامطلب یہ ہے کہ ایسے حالات میں مستقل مزاجی کے ساتھ جمے رہو اور حالات جیسے بھی ہوں بددل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بزدلی اور فرارمومن کی شان نہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ”اے ایمان والو!جب کسی گروں سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو،اللہ کو بکثرت یاد کیاکرو تاکہ تم کامیاب رہو۔
“ (الأنفال: 45/8)
2۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ دوران جنگ میں اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا ثابت قدمی کا باعث ہے اور کامیابی کا راز ہے۔
حدیث میں صبر سے مراد یہی ہے کہ ذکر الٰہی سے اپنے دل کومطمئن رکھو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2833]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2966
2966. حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ ؓ ہی سے روایت ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! دشمن سے مقابلے کی آرزونہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔ لیکن اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اورخوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ پھر آپ نے یوں دعا کی: ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، (کافروں کے)لشکروں کو شکست دینے والے، انھیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2966]
حدیث حاشیہ:
1۔
سورج ڈھلنے تک انتظار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مدد کی ہوائیں چلتی ہیں اور دن ٹھنڈا ہونے کے باعث جم کر لڑائی کی جاتی ہے، نیز مسلمان اپنی نمازوں میں مجاہدین کے لیے دعائیں کرتے ہیں، چنانچہ نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وہ ایک جنگ میں شریک تھے، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ لڑائی سے رُک جاتے، پھر جب سور ج طلوع ہوتا تو دوپہر تک جنگ کرتے، پھر زوال آفتاب کےبعد حملہ کرتے اور عصر کے وقت رُک جاتے، پھر نماز عصر کے بعد حملہ کرتے۔
کہا جاتا ہے کہ اس وقت نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں اور اہل ایمان اپنے لشکروں کے لیے نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1612)
2۔
نصرت کی ہوا سے مرادبادصبا ہے جو بالعموم فتح ونصرت کا باعث ہوتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنگ وقتال اسلام کی نظر میں ذاتی طور پر کوئی مرغوب چیز نہیں۔
جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
1۔
سورج ڈھلنے تک انتظار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مدد کی ہوائیں چلتی ہیں اور دن ٹھنڈا ہونے کے باعث جم کر لڑائی کی جاتی ہے، نیز مسلمان اپنی نمازوں میں مجاہدین کے لیے دعائیں کرتے ہیں، چنانچہ نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وہ ایک جنگ میں شریک تھے، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ لڑائی سے رُک جاتے، پھر جب سور ج طلوع ہوتا تو دوپہر تک جنگ کرتے، پھر زوال آفتاب کےبعد حملہ کرتے اور عصر کے وقت رُک جاتے، پھر نماز عصر کے بعد حملہ کرتے۔
کہا جاتا ہے کہ اس وقت نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں اور اہل ایمان اپنے لشکروں کے لیے نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1612)
2۔
نصرت کی ہوا سے مرادبادصبا ہے جو بالعموم فتح ونصرت کا باعث ہوتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنگ وقتال اسلام کی نظر میں ذاتی طور پر کوئی مرغوب چیز نہیں۔
جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2966]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7237
7237. حضرت سالم ابو نضر مولیٰ عمر بن عبید اللہ سے روایت ہے جو اپنے آقا کے کاتب تھے‘ انہوں نے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے انہیں خط لکھا جسے میں نے خود پڑھا‘ اس میں یہ مضمون تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7237]
حدیث حاشیہ:
دشمن سے مقابلے کی خواہش مکروہ ہے لیکن یہ شہادت کی تمنا کے منافی نہیں کیونکہ شہادت کا حصول تو اسلام کی نصرت اور اس کے غلبے کےساتھ ممکن ہے لیکن مقابلے کی خواہش کرنااس کے برعکس ہوسکتا ہے، نیز دشمن سے ملاقات کی کراہت اس شخص کے لیے ہے جو اپنی قوت پر ہی اعتماد کرے اور خود کو بڑا خیال کرے، ایسے شخص کے لیے دشمن سے مڈ بھیڑ کی خواہش کرنا مکروہ ہے۔
(فتح الباري: 275/13)
ایک حدیث میں ہے:
”دشمن سے مقابلے کی خواہش نہ کرو لیکن جب آمنا سامنا ہو جائے تو ڈٹ کر مقابلہ کرو۔
“ (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3026)
دشمن سے مقابلے کی خواہش مکروہ ہے لیکن یہ شہادت کی تمنا کے منافی نہیں کیونکہ شہادت کا حصول تو اسلام کی نصرت اور اس کے غلبے کےساتھ ممکن ہے لیکن مقابلے کی خواہش کرنااس کے برعکس ہوسکتا ہے، نیز دشمن سے ملاقات کی کراہت اس شخص کے لیے ہے جو اپنی قوت پر ہی اعتماد کرے اور خود کو بڑا خیال کرے، ایسے شخص کے لیے دشمن سے مڈ بھیڑ کی خواہش کرنا مکروہ ہے۔
(فتح الباري: 275/13)
ایک حدیث میں ہے:
”دشمن سے مقابلے کی خواہش نہ کرو لیکن جب آمنا سامنا ہو جائے تو ڈٹ کر مقابلہ کرو۔
“ (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3026)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7237]
سالم بن أبي أمية القرشي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي