سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. باب في دعاء المشركين
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2634
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَكَانَ يَتَسَمَّعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2634]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت شب خون مارا کرتے تھے اور (اس سے پہلے) کان لگا کر سنتے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو باز رہتے ورنہ حملہ کر دیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 6 (382)، سنن الترمذی/السیر 48 (1618)، (تحفة الأشراف: 312)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 229، 241، 270، 353) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جب اذان کی آواز آتی تو معلوم ہو جاتا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں، اور اگر اذان کی آواز نہیں آتی تو ان کا کافر ہو جانا یقینی ہو جاتا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ کر دیتے، اور چونکہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی اس لئے بغیر دعوت دیئے حملہ کر دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (382)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
847
| يغير إذا طلع الفجر كان يستمع الأذان فإن سمع أذانا أمسك وإلا أغار سمع رجلا يقول الله أكبر الله أكبر فقال رسول الله على الفطرة ثم قال أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله فقال رسول الله خرجت من النار فن |
جامع الترمذي |
1618
| خرجت من النار |
سنن أبي داود |
2634
| يغير عند صلاة الصبح كان يتسمع فإذا سمع أذانا أمسك وإلا أغار |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2634 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2634
فوائد ومسائل:
اذان کا سنائی دینا اس بات کی علامت ہے۔
کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں۔
اس لئے ان پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔
اذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان نہیں ہیں۔
لہذا ان پرحملہ کر دیا جاتا تھا۔
اذان کا سنائی دینا اس بات کی علامت ہے۔
کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں۔
اس لئے ان پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔
اذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان نہیں ہیں۔
لہذا ان پرحملہ کر دیا جاتا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2634]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 847
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دشمن پر) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، آگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سن لیتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے، ورنہ حملہ کردیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا، اللہ اکبر، اللہ اکبر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فطرت اسلام پر ہے۔ پھر اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے آزاد ہوگیا“، صحابہ کرام رضی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:847]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی گاؤں یا بستی سے اذان کی آواز آنا اس کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے،
اس لیے اس بستی پر حملہ نہیں کیا جائے گا چرواہے کا اللہ کی واحدنیت کی گواہی دینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے اس گواہی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آگ سے نجات پانے کی خبر دی اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
کسی گاؤں یا بستی سے اذان کی آواز آنا اس کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے،
اس لیے اس بستی پر حملہ نہیں کیا جائے گا چرواہے کا اللہ کی واحدنیت کی گواہی دینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے اس گواہی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آگ سے نجات پانے کی خبر دی اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 847]
Sunan Abi Dawud Hadith 2634 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري