سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب في حكم الجاسوس إذا كان مسلما
باب: جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ:" فِيهِ، قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی: ”میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے“، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2651]
سیدنا ابوعبدالرحمٰن سلمی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو لکھا تھا کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرف رخ کرنے والے ہیں۔“ اس روایت میں ہے کہ اس عورت نے کہا: ”میرے پاس خط نہیں ہے۔“ تو ہم نے اس کی اونٹنی کو بٹھا لیا مگر ہمیں اس کے پاس کوئی خط نہ ملا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے: ”قسم اس ذات کی جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، نہیں تو خط نکال دے۔“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الجہاد 195 (3081)، المغازی 9 (3983)، الاستئذان 23 (6259)، صحیح مسلم/ فضائل الصحابة 36 (2494)، (تحفة الأشراف: 10169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/105، 131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3081) صحيح مسلم (2494)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2651 in Urdu
عبد الله بن حبيب السلمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي