سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب في قتل النساء
باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ ابْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ ذَرَارِيِّهِمْ وَنِسَائِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ، وَكَانَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ يَقُولُ: هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ" عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ".
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں (تو کیا حکم ہے؟)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہیں میں سے ہیں“ اور عمرو بن دینار کہتے تھے: ”وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں“۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2672]
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ مشرکین کے گھر والوں کا کیا حکم ہے جبکہ ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو چھوٹے بچے اور عورتیں بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“ اور عمرو (بن دینار) رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”وہ بھی اپنے آباء میں سے ہیں۔“ زہری رحمہ اللہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 146 (3012)، صحیح مسلم/الجھاد 9 (1785)، سنن الترمذی/السیر 19 (1570)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 30 (2839)، (تحفة الأشراف: 4939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/38، 71، 72، 73) (صحیح)» (زہری کا مذکورہ قول مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون النهي عن القتل
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3012) صحيح مسلم (1745)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الصعب بن جثامة الليثي | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس عبد الله بن العباس القرشي ← الصعب بن جثامة الليثي | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر أحمد بن عمرو القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2672
| عن قتل النساء والولدان |
مسندالحميدي |
799
| هم منهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2672 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2672
فوائد ومسائل:
عورتوں اور بچوں کو عمدا ًقتل کرنا منع ہے۔
اور شب خون وغیرہ میں جب تمیز کرنا مشکل ہو تو معاف ہے۔
یا جب بڑوں تک پہنچنے کےلئے ان کو قتل کرنا پڑے تو جائز ہے۔
شیخ البانی فرماتے ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا تھا کے الفاظ صحیح نہیں ہیں۔
عورتوں اور بچوں کو عمدا ًقتل کرنا منع ہے۔
اور شب خون وغیرہ میں جب تمیز کرنا مشکل ہو تو معاف ہے۔
یا جب بڑوں تک پہنچنے کےلئے ان کو قتل کرنا پڑے تو جائز ہے۔
شیخ البانی فرماتے ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا تھا کے الفاظ صحیح نہیں ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2672]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:799
799- سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی علا قے کے رہنے والے مشرکین کے بارے میں دریافت کیا گیا: جن پررات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، اور ا س میں ان کی خواتین اور بچے مارے جاتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کا حصہ ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں۔ عمر ونامی راوی نے پہلے یہ روایت زہری کے حوالے سے سنائی تھی۔ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے تھے۔ ”وہ اپنے آباؤ اجداد میں سے ہیں۔“ لیکن جب ہمارے پاس زہری تشریف لائے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:799]
فائدہ:
جہاد میں خواتین اور بچوں کوقتل کرنا منع ہے۔ [صحيح البخاري 3015] اسی طرح بوڑھوں کو بھی قتل سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اگر دار الحرب والوں پر شب خون مارا جائے اور (اس میں بغیر کسی ارادے کے) ان کے بچے اور اولاد ہلاک ہو جائیں تو ان کا وہی حکم ہوگا، کیونکہ رات کو اندھیرے میں بچوں اور خواتین کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر بچے، بوڑھے یا خواتین مارے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
جہاد میں خواتین اور بچوں کوقتل کرنا منع ہے۔ [صحيح البخاري 3015] اسی طرح بوڑھوں کو بھی قتل سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اگر دار الحرب والوں پر شب خون مارا جائے اور (اس میں بغیر کسی ارادے کے) ان کے بچے اور اولاد ہلاک ہو جائیں تو ان کا وہی حکم ہوگا، کیونکہ رات کو اندھیرے میں بچوں اور خواتین کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر بچے، بوڑھے یا خواتین مارے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 799]
Sunan Abi Dawud Hadith 2672 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← الصعب بن جثامة الليثي