سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. باب في الأسير يوثق
باب: قیدی کے باندھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِالأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمْ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِهِمْ عَلَى عَوْفٍ، وَمُعَوِّذٍ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أَتَيْتُ، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُمَا قَتَلَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَكَانَا انْتَدَبَا لَهُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ وَقُتِلَا يَوْمَ بَدْرٍ.
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا، اور سودہ بنت زمعہ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قسم اللہ کی! میں انہیں کے پاس تھی، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں دونوں (عوف و معوذ) نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالانکہ اسے پہچانتے نہ تھے، یہ دونوں بدر کے دن مارے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2680]
سیدنا یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو جب لایا گیا تو ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا آل عفراء کے پاس یعنی عفراء کے صاحبزادوں عوف اور معوذ کے ہاں ٹھہری ہوئی تھیں، جہاں کہ ان کے اونٹوں کا باڑا تھا۔ اور یہ امہات المؤمنین پر پردہ فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”اللہ کی قسم! میں ان لوگوں (آل عفراء) کے ہاں تھی جب میں (وہاں سے) آئی تو مجھے بتایا گیا کہ قیدی لائے گئے ہیں۔ میں اپنے گھر لوٹی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو بھی حجرے کے کونے میں پڑا تھا۔ ایک رسی سے اس کے ہاتھوں کو اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔“ پھر باقی حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے (عوف اور معوذ نے) ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا تھا۔ یہ اس کی طرف بڑھے تھے مگر پہچانتے نہ تھے اور خود بدر کے روز شہید ہو گئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15897) (ضعیف)» (یحییٰ بن عبد اللہ تابعی صغیر ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
يحيي روي ھذا الحديث عن سودة كما ھو الأظھر
يحيي روي ھذا الحديث عن سودة كما ھو الأظھر
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2680 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2680
فوائد ومسائل:
ابو جہل کے قتل میں عفراء کے دو صاحبزادوں معاذ اور معوذ کے علاوہ معاذ بن عمرو بن جموح اورعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شریک تھے۔
امام ابو دائود اور ابن سعد نے عوف بن عفراء کا نام بھی شامل کیا ہے۔
حافظ ابن حجر نے ان روایات میں جمع وتطبیق دیتے ہوئے لکھا ہے۔
کہ معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء نے پہلے مل کر حملہ کیا پھر معوذ بن عفراء نے بھی اس کو گھائل کیا اور آخر میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سر قلم کیا۔
(فتح الباري، کتاب المغازي، باب قتل أبي جهل، حدیث:3964۔
و الرحیق المختوم) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ حدیث 2709 میں آرہا ہے۔
ابو جہل کے قتل میں عفراء کے دو صاحبزادوں معاذ اور معوذ کے علاوہ معاذ بن عمرو بن جموح اورعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شریک تھے۔
امام ابو دائود اور ابن سعد نے عوف بن عفراء کا نام بھی شامل کیا ہے۔
حافظ ابن حجر نے ان روایات میں جمع وتطبیق دیتے ہوئے لکھا ہے۔
کہ معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء نے پہلے مل کر حملہ کیا پھر معوذ بن عفراء نے بھی اس کو گھائل کیا اور آخر میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سر قلم کیا۔
(فتح الباري، کتاب المغازي، باب قتل أبي جهل، حدیث:3964۔
و الرحیق المختوم) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ حدیث 2709 میں آرہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2680]
Sunan Abi Dawud Hadith 2680 in Urdu
يحيى بن عبد الله الأنصاري ← سودة بنت زمعة القرشية