🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
130. باب في المن على الأسير بغير فداء
باب: قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ سورة الفتح آية 24 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية (سورۃ الفتح: ۲۴) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 46 (1808)، سنن الترمذی/تفسیرالفتح 3 (3264)، (تحفة الأشراف: 309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 290) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1808)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4679
أخذهم سلما فاستحياهم فأنزل الله وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة من بعد أن أظفركم عليهم
جامع الترمذي
3264
أخذوا أخذا فأعتقهم رسول الله فأنزل الله وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم
سنن أبي داود
2688
أخذهم رسول الله سلما فأعتقهم رسول الله فأنزل الله وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2688 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2688
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا) (محمد۔
4) جب کافروں سے گھمسان کا رن پڑے۔
تو ان کی گردنوں پروار کرو۔
جب ان کوخوب کاٹ چکو تو اب خوب مظبوط باندھ کر قید کرلو۔
پھر اختیار ہے کہ خواہ احسان کر کے چھوڑدو یا فدیہ (عوض اور بدل) لے کر۔
یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔
فائدہ: یہ لوگ قریش کے پرجوش اور جنگ باز نوجوان تھے۔
جو اپنے بڑوں کی رائے کے برخلاف مسلمانوں کے ساتھ صلح کے حق میں نہ تھے۔
انہوں نے اپنے طور پر یہ خطرناک پروگرام بنایا جس اللہ تعالیٰ نے مٹی میں ملا دیا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لئے بغیر بطور احسان کے ان کو رہا کردیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2688]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3264
سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی (۸۰) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم» وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے (الفتح: ۲۴)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3264]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔
(الفتح: 24)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3264]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4679
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اہل مکہ سے اَسی آدمی مسلح ہو کر جبل تنعیم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اترے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی بے خبری میں حملہ کرنا چاہتے تھے، آپ نے ان کو لڑائی کے بغیر ہی پکڑ لیا اور انہیں زندہ چھوڑ دیا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ فتح کی یہ آیت اتاری وہ وہی ذات ہے، جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4679]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
متسلحين:
مسلح،
ہتھیاروں سے لیس،
غرة،
غفلت و بے خبری۔
(2)
سلما:
بقول قاضی عیاض،
اس کا معنی ہے،
ان کو قیدی بنا لیا اور بقول خطابی،
انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
(3)
﴿وَاَلقَوْاإِلَيْكَمُ السَّلم﴾ انہوں نے تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دئیے،
تمہارے مطیع ہو گئے،
کیونکہ وہ مقابلہ کی تاب نہ لا سکے۔
(4)
فاستحياهم:
آپ نے ان کو زندہ رکھا،
یعنی آپ نے ان کو معاف کر دیا۔
تاکہ صلح ہو سکے اور آغاز ہی میں ختم نہ ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
حدیبیہ میں قیام کے دوران جبل تنعیم سے ہتھیار بند مکہ کے اسی (80)
جوانوں کا ایک دستہ آپ اور مسلمانوں کے خلاف چھیڑ چھاڑ کے لیے اترا،
مسلمانوں نے ان سب کو زندہ گرفتار کر لیا،
(مسلمانوں کے گرفتار کرنے کو آپ کا گرفتار کرنا قرار دیا گیا ہے،
یہی حال (كَتَبَ)
کا ہے،
کہ آپ کے حکم سے لکھا گیا،
اس لیے مختلف احادیث میں لکھنے کی نسبت آپ کی طرف کردی گئی)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ صلح چاہتے تھے،
اس لیے آپ نے سب کو رہا کرنے کا حکم دیا،
تو یہ آیت اتری۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4679]