سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب في النهى عن النهبى، إذا كان في الطعام قلة في أرض العدو
باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ بِكَابُلَ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَى فَرَدُّوا مَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ.
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2703]
ابو لبید بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں کابل میں تھے۔ لوگوں کو غنیمت ملی تو ہر ایک نے اسے لوٹ لیا۔ پس انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ سے منع کیا ہے۔“ چنانچہ ان لوگوں نے جو کچھ لیا تھا سب واپس کر دیا۔ پھر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/62، 63)، سنن الدارمی/الأضاحي 23 (2038) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه أحمد (5/62، 63)
أخرجه أحمد (5/62، 63)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2703
| ينهى عن النهبى فردوا ما أخذوا قسمه بينهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2703 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2703
فوائد ومسائل:
1۔
یعنی جس طرح مردار کا گوشت حلال اور جائز نہیں۔
یہی حکم لوٹ کے اس مال کا ہے۔
جو بلااستحقاق لیا جائے۔
2۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی مشقت اور احتیاج کے حالات میں بھی دوسروں کا حق کھانے کی اجازت نہیں دی۔
3۔
مالی سزا دینا (تعزیر بالمال) جائز ہے۔
4۔
امام پر واجب ہے کہ اپنی رعیت میں عدل وانصاف کا ہر حال میں اہتمام کرے۔
اس سے اللہ کی رحمت اترتی اور دشمن پر غلبہ ملتا ہے۔
1۔
یعنی جس طرح مردار کا گوشت حلال اور جائز نہیں۔
یہی حکم لوٹ کے اس مال کا ہے۔
جو بلااستحقاق لیا جائے۔
2۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی مشقت اور احتیاج کے حالات میں بھی دوسروں کا حق کھانے کی اجازت نہیں دی۔
3۔
مالی سزا دینا (تعزیر بالمال) جائز ہے۔
4۔
امام پر واجب ہے کہ اپنی رعیت میں عدل وانصاف کا ہر حال میں اہتمام کرے۔
اس سے اللہ کی رحمت اترتی اور دشمن پر غلبہ ملتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2703]
Sunan Abi Dawud Hadith 2703 in Urdu
لمازة بن زبار الأزدي ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي