🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
147. باب في السلب يعطى القاتل
باب: جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُهُمْ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ"، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَرَدْنَا بِهَذَا الْخِنْجَرَ وَكَانَ سِلَاحَ الْعَجَمِ يَوْمَئِذٍ الْخِنْجَرُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا: ام سلیم! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2718]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن فرمایا تھا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو تو اس کا سلب (اسباب) اسی قاتل کا ہے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسی دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا سلب بھی حاصل کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے جبکہ ان کے (ام سلیم رضی اللہ عنہا) کے پاس خنجر تھا، تو پوچھا: اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ ان کافروں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چیر دوں گی۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بتائی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور اس حدیث کے بیان سے ہمارا مقصد خنجر کے متعلق بتانا ہے (کہ بطور اسلحہ اس کا استعمال جائز ہے) کہ ان دنوں عجمی لوگ ہی اسے استعمال کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 170)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد 47 (1809)، مسند احمد (3/279،190)، سنن الدارمی/السیر 44 (2527) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1809)
مشكوة المصابيح (4002)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2718
من قتل كافرا فله سلبه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2718 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2718
فوائد ومسائل:

غزوہ حنین میں ابتدائی طور پر مسلمانوں کو کچھ ہزیمت ہوئی تھی، مگر بعد میں انہوں نے اپنی قوت جمع کرلی۔
اور اللہ تعالیٰ نے نصر ت فرمائی۔
سورہ توبہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔
(لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ) (التوبة:25) بلاشبہ اللہ عزوجل بہت سے مقامات پر تمہاری مدد کر چکا ہے۔
اور (یاد کرو) حنین کے روز کو جب تم اپنی کثرت پر نازاں ہوئے، مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی۔
اور زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی تھی۔
اور تم پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے تھے۔


مقتول کے پاس جو ذاتی استعمال کا مال ہو وہ اس کے قاتل مجاہد کا حق ہوتا ہے۔
خواہ کسی قدر ہو۔
نیز اس میں سے خمس بھی نہیں لیا جاتا۔


ہر دور میں رائج الوقت اسلحۃ استعمال کرنا چاہیے۔


مسلمان عورتوں کو بھی د فاع کےلئے تیار رہنا چاہیے۔
تاکہ حسب ضرورت وہ اپنا دفاع کر سکیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2718]

Sunan Abi Dawud Hadith 2718 in Urdu