🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
156. باب في النفل
باب: نفل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2737
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفَلِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَالَ الْمَشْيَخَةُ: كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ لَوِ انْهَزَمْتُمْ لَفِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَلَا تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى، فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا: جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ إِلَى قَوْلِهِ كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ سورة الأنفال آية 1 ـ 5 يَقُولُ فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ فَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری ہی طرف پلٹتے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ غنیمت کا مال تم ہی اڑا لو، اور ہم یوں ہی رہ جائیں، جوانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم کو دیا ہے، تب اللہ نے یہ آیت کریمہ «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله» یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو، بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی (سورۃ الانفال: ۱-۵) سے «كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون» تک نازل فرمائی، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2737]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جس نے ایسے ایسے کیا اسے اتنا اتنا انعام (نفل) ملے گا۔ چنانچہ نوجوان آگے بڑھے اور بڑی عمر کے لوگ نشانات (یا جھنڈوں) کے پاس رکے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح دی تو بزرگوں نے کہا: ہم تمہارا سہارا تھے، اگر تمہیں شکست ہوتی تو تم لوگ ہمارے ہی پاس لوٹ کر آتے، ساری غنیمت تم ہی نہ سمیٹ لے جاؤ کہ ہمیں کچھ نہ ملے، مگر جوانوں نے انکار کیا اور کہنے لگے: یہ تو وہ چیز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مخصوص فرمائی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورہ الانفال کی آیات ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] سے لے کر ﴿كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ﴾ [سورة الأنفال: 5] تک نازل فرمائیں، چنانچہ یہ سب ان کے لیے بہتر ہوا اور ایسے فرمایا کہ میری اطاعت کرو، بیشک اس کے انجام کو میں تم سے بہتر جانتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6081) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام اپنے اختیار سے مجاہدین کو غنیمت سے مقررہ حصہ کے سوا بطور تشجیع و ہمت افزائی جو کچھ دیتا ہے اسے نفل کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة متقن
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة ثبت
👤←👥وهبان بن بقية الواسطي، أبو محمد
Newوهبان بن بقية الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2737
من فعل كذا وكذا فله من النفل كذا وكذا قال فتقدم الفتيان ولزم المشيخة الرايات فلم يبرحوها فلما فتح الله عليهم قال المشيخة كنا ردءا لكم لو انهزمتم لفئتم إلينا فلا تذهبوا بالمغنم ونبقى فأبى الفتيان وقالوا جعله رسول الله لنا ف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2737
من فعل كذا وكذا فله من النفل كذا وكذا قال فتقدم الفتيان ولزم المشيخة الرايات فلم يبرحوها فلما فتح الله عليهم قال المشيخة كنا ردءا لكم لو انهزمتم لفئتم إلينا فلا تذهبوا بالمغنم ونبقى فأبى الفتيان وقالوا جعله رسول الله لنا ف
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2737 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2737
فوائد ومسائل:

سورہ انفال کی ابتدائی پانچ آیتوں کا ترجمہ یہ ہے یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔
کہہ دیجئے کہ غنائم کا مالک اللہ ہے۔
اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سو تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔
اور آپس میں صلح سے رہو۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔
اگر تم (واقعی) مومن ہو۔
ایمان والے تو وہ ہیں جب اللہ کا نام آئے۔
تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔
اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں۔
توان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
وہ جو نماز قائم کرتے ہیں۔
اور جو ہم نے ان کو دیا ہے خرچ کرتے ہیں۔
یہی لوگ سچے ایمان دار ہیں۔
ان کے لئے اپنے رب کے پاس درجات ہیں۔
اور مغفرت اورعزت کی روزی ہے۔
جسا کہ آپ کو آپ کے رب نے آپ کوگھر سے حق کے ساتھ نکالا جب کہ مومنوں میں سے ایک جماعت راضی نہ تھی۔


جہاد اور دیگر اعمال خیر میں لوگوں کوشوق دلانے ان کی حوصلہ افزائی اور مزید سبقت کےلئے انعامات دینا مسنون ومستحب ہے۔
مگر ان پر واجب ہے کہ اپنی نیتوں کومحض دنیا کے مال ومتاع تک محدود نہ رکھیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2737]

Sunan Abi Dawud Hadith 2737 in Urdu