🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
156. باب فِي النَّفْلِ
باب: نفل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ بِكَلَامِي فَجِئْتُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ، ثُمَّ قَرَأَ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری“ یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے، لہٰذا (اب) یہ تمہاری ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2740]
سیدنا مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ بدر کے روز میں ایک تلوار لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آج دشمن کے مقابلے میں میرا سینہ ٹھنڈا کر دیا ہے، تو آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تیری۔“ چنانچہ میں چلا اور میں کہہ رہا تھا: ”یہ آج اس آدمی کو دے دی جائے گی جس نے میرے جیسی بہادری نہیں دکھائی ہو گی۔“ میں اسی کیفیت میں تھا کہ ایک بلانے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں) پہنچو۔ میں نے گمان کیا کہ میں نے جو بول بولے ہیں ان کی بنا پر میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہو گی۔ چنانچہ میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی، حالانکہ یہ نہ میری ہے نہ تیری اور (اب) اللہ عزوجل نے اسے مجھے دے دیا ہے، سو (اب) یہ تیری ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الانفال کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] آخر آیت تک۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ہے: «يَسْأَلُونَكَ النَّفَلَ» (بغیر ”عن“ کے اور مفرد صیغہ کے ساتھ)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 12 (1748)، سنن الترمذی/تفسیر الأنفال 9 (3079)، (تحفة الأشراف: 3930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/178، 181، 185) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1748)

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12352

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← مصعب بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4556
من الخمس سيفا فأتى به النبي فقال هب لي هذا
صحيح مسلم
4557
نزلت في أربع آيات أصبت سيفا فأتى به النبي فقال يا رسول الله نفلنيه فقال ضعه ثم قام فقال له النبي ضعه من حيث أخذته ثم قام فقال نفلنيه يا رسول الله فقال ضعه فقام فقال يا رسول الله نفلنيه أأجعل كمن لا غناء له فقال له النبي ضعه من حيث أخذته
جامع الترمذي
3079
هذا ليس لي ولا لك فقلت عسى أن يعطى هذا من لا يبلي بلائي فجاءني الرسول فقال إنك سألتني وليس لي وإنه قد صار لي وهو لك قال فنزلت يسألونك عن الأنفال
سنن أبي داود
2740
هذا السيف ليس لي ولا لك فذهبت وأنا أقول يعطاه اليوم من لم يبل بلائي فبينا أنا إذ جاءني الرسول فقال أجب فظننت أنه نزل في شيء بكلامي فجئت فقال لي النبي إنك سألتني هذا السيف وليس هو لي ولا لك وإن الله قد جعله لي فهو لك ثم قرأ يسألونك عن ال
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2740 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2740
فوائد ومسائل:
معروف قراءت میں (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ) کے معنی ہیں۔
لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت (يسالونك النفل) کا ترجمہ ہے۔
لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل کا سوال کرتے ہیں۔
(مزید اضافی انعام کا)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2740]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3079
سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا (یعنی انہیں خوب مارا) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا (راوی کو شک ہو گیا) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے (جی میں) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، (میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا) تو (میرے پیچھے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3079]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ یہ ابھی ایسے مال غنیمت میں سے ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی ہے،
تو کیسے تم کو دے دوں۔

2؎:
کیونکہ اب تقسیم میں (بطورخمس کے) وہ میرے حصے میں آ گئی ہے۔

3؎:
یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں (الأنفال: 1)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3079]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4556
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے، مصعب بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس میں سے ایک تلوار اٹھا لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کیا، یہ مجھے ہبہ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو یہ آیت اتری: ”آپ سے لوگ انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیں، انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4556]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
انفال:
یہ نفل کی جمع ہے،
جس کا معنی ہے،
زائد یا اضافہ،
لیکن یہاں کیا مراد ہے،
اس میں علماء کا مندرجہ ذیل اختلاف ہے۔
(1)
انفال سے مراد،
غنیمتیں ہیں کہ اس میں تصرف کا حق اللہ نے رسول کو دیا ہے،
اس مفہوم کی صورت میں یہ آیت منسوخ ہو گی کیونکہ بعد میں غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے لیے مقرر کر دئیے گئے اور پانچواں حصہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر چھوڑ دیا گیا۔
حدیث نمبر (4556)
(2)
انفال سے مراد،
خمس پانچواں حصہ ہے،
پورا مال غنیمت مراد نہیں ہے،
اس صورت میں یہ آیت منسوخ نہیں ہو گی۔
(3)
انفال سے مراد فے ہے،
یعنی وہ مال جو مسلمان کو کافروں سے بلا جنگ و جدال ملتا ہے،
اس میں نبی جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے۔
(4)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے،
جو امام کسی کو حسن کارکردگی پر عنایت فرماتا ہے۔
(5)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے،
جو امام کسی دستہ کو بڑے لشکر سے جب الگ کسی مہم پر بھیجتا ہے تو اسے عام لشکر سے اضافی طور پر دیتا ہے۔
(2)
حضرت سعد نے غنیمت میں سے ایک تلوار لی،
اس کو خمس سے تعبیر اس لیے کیا کہ جنگ بدر کے بعد،
جب غنیمت کی تقسیم کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوا اور قرآن مجید میں اس کے بارے میں احکام نازل کیے گئے تو مجاہد کو عطیہ اور انعام میں دی گئی چیز کو خمس میں سے شمار کیا گیا تو چونکہ ابھی احکام نازل نہیں ہوئے،
اس لیے آیت انفال کے ذریعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو عنایت فرما دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4556]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4557
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات اتریں، میں نے ایک تلوار لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے عطیہ عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔“ تو وہ عرض کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جہاں سے لیا ہے، وہیں اسے رکھ دو۔“ وہ پھر عرض گزار ہوئے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4557]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
وہ چار آیات جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں اتری ہیں،
وہ امام صاحب آگے کتاب الفضائل میں بیان کر دیں گے،
یعنی بر الوالدين ماں باپ کے ساتھ ایفاء اور حسن سلوک،
حرمت شراب،
﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم﴾ جو لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں،
انہیں مت دھتکاریے اور آیت انفال۔
(2)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر میں قابل قدر حصہ لیا تھا،
کفار قریش کے بڑے جنگ جو سعید بن العاص کو قتل کیا تھا،
اس لیے وہ سمجھتے تھے اس کی تلوار پر میرا حق ہے،
مزید برآں ان کے بھائی عمیر بھی قتل ہو گئے تھے،
اس لیے بڑے پریشان تھے اور اس کے ایمان لانے کے خواہش مند تھے،
اس لیے تلوار لینے پر بہت اصرار کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4557]

Sunan Abi Dawud Hadith 2740 in Urdu