🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ومن سورة الأنفال
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جِئْتُ بِسَيْفٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَوْ نَحْوَ هَذَا، هَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، فَقَالَ: " هَذَا لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ "، فَقُلْتُ: عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا مَنْ لَا يُبْلِي بَلَائِي، فَجَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: " إِنَّكَ سَأَلْتَنِي وَلِيس لِي وَإِنَّهُ قَدْ صَارَ لِي وَهُوَ لَكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاه سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبٍ بْنِ سَعْدٍ أَيْضًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا (یعنی انہیں خوب مارا) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا (راوی کو شک ہو گیا) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے (جی میں) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، (میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا) تو (میرے پیچھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور اس نے (آپ کی طرف سے) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ (بحکم الٰہی) میرے اختیار میں آ گئی ہے ۲؎، تو اب وہ تمہاری ہے (میں اسے تمہیں دیتا ہوں) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونك عن الأنفال» ۳؎ والی آیت نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے،
۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجھاد 12 (1748)، سنن ابی داود/ الجھاد 156 (2740) (تحفة الأشراف: 3930) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ ابھی ایسے مال غنیمت میں سے ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی ہے، تو کیسے تم کو دے دوں۔
۲؎: کیونکہ اب تقسیم میں (بطور خمس کے) وہ میرے حصے میں آ گئی ہے۔
۳؎: یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں (الأنفال: ۱)۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، صحيح أبي داود (2747)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← مصعب بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4556
من الخمس سيفا فأتى به النبي فقال هب لي هذا
صحيح مسلم
4557
نزلت في أربع آيات أصبت سيفا فأتى به النبي فقال يا رسول الله نفلنيه فقال ضعه ثم قام فقال له النبي ضعه من حيث أخذته ثم قام فقال نفلنيه يا رسول الله فقال ضعه فقام فقال يا رسول الله نفلنيه أأجعل كمن لا غناء له فقال له النبي ضعه من حيث أخذته
جامع الترمذي
3079
هذا ليس لي ولا لك فقلت عسى أن يعطى هذا من لا يبلي بلائي فجاءني الرسول فقال إنك سألتني وليس لي وإنه قد صار لي وهو لك قال فنزلت يسألونك عن الأنفال
سنن أبي داود
2740
هذا السيف ليس لي ولا لك فذهبت وأنا أقول يعطاه اليوم من لم يبل بلائي فبينا أنا إذ جاءني الرسول فقال أجب فظننت أنه نزل في شيء بكلامي فجئت فقال لي النبي إنك سألتني هذا السيف وليس هو لي ولا لك وإن الله قد جعله لي فهو لك ثم قرأ يسألونك عن ال
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3079 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3079
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ یہ ابھی ایسے مال غنیمت میں سے ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی ہے،
تو کیسے تم کو دے دوں۔

2؎:
کیونکہ اب تقسیم میں (بطورخمس کے) وہ میرے حصے میں آ گئی ہے۔

3؎:
یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں (الأنفال: 1)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3079]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2740
نفل کا بیان۔
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2740]
فوائد ومسائل:
معروف قراءت میں (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ) کے معنی ہیں۔
لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت (يسالونك النفل) کا ترجمہ ہے۔
لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل کا سوال کرتے ہیں۔
(مزید اضافی انعام کا)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2740]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4556
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے، مصعب بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس میں سے ایک تلوار اٹھا لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کیا، یہ مجھے ہبہ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو یہ آیت اتری: آپ سے لوگ انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیں، انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4556]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
انفال:
یہ نفل کی جمع ہے،
جس کا معنی ہے،
زائد یا اضافہ،
لیکن یہاں کیا مراد ہے،
اس میں علماء کا مندرجہ ذیل اختلاف ہے۔
(1)
انفال سے مراد،
غنیمتیں ہیں کہ اس میں تصرف کا حق اللہ نے رسول کو دیا ہے،
اس مفہوم کی صورت میں یہ آیت منسوخ ہو گی کیونکہ بعد میں غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے لیے مقرر کر دئیے گئے اور پانچواں حصہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر چھوڑ دیا گیا۔
حدیث نمبر (4556)
(2)
انفال سے مراد،
خمس پانچواں حصہ ہے،
پورا مال غنیمت مراد نہیں ہے،
اس صورت میں یہ آیت منسوخ نہیں ہو گی۔
(3)
انفال سے مراد فے ہے،
یعنی وہ مال جو مسلمان کو کافروں سے بلا جنگ و جدال ملتا ہے،
اس میں نبی جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے۔
(4)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے،
جو امام کسی کو حسن کارکردگی پر عنایت فرماتا ہے۔
(5)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے،
جو امام کسی دستہ کو بڑے لشکر سے جب الگ کسی مہم پر بھیجتا ہے تو اسے عام لشکر سے اضافی طور پر دیتا ہے۔
(2)
حضرت سعد نے غنیمت میں سے ایک تلوار لی،
اس کو خمس سے تعبیر اس لیے کیا کہ جنگ بدر کے بعد،
جب غنیمت کی تقسیم کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوا اور قرآن مجید میں اس کے بارے میں احکام نازل کیے گئے تو مجاہد کو عطیہ اور انعام میں دی گئی چیز کو خمس میں سے شمار کیا گیا تو چونکہ ابھی احکام نازل نہیں ہوئے،
اس لیے آیت انفال کے ذریعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو عنایت فرما دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4556]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4557
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات اتریں، میں نے ایک تلوار لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے عطیہ عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ تو وہ عرض کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: جہاں سے لیا ہے، وہیں اسے رکھ دو۔ وہ پھر عرض گزار ہوئے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مجھے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4557]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
وہ چار آیات جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں اتری ہیں،
وہ امام صاحب آگے کتاب الفضائل میں بیان کر دیں گے،
یعنی بر الوالدين ماں باپ کے ساتھ ایفاء اور حسن سلوک،
حرمت شراب،
﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم﴾ جو لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں،
انہیں مت دھتکاریے اور آیت انفال۔
(2)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر میں قابل قدر حصہ لیا تھا،
کفار قریش کے بڑے جنگ جو سعید بن العاص کو قتل کیا تھا،
اس لیے وہ سمجھتے تھے اس کی تلوار پر میرا حق ہے،
مزید برآں ان کے بھائی عمیر بھی قتل ہو گئے تھے،
اس لیے بڑے پریشان تھے اور اس کے ایمان لانے کے خواہش مند تھے،
اس لیے تلوار لینے پر بہت اصرار کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4557]