سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
164. باب في الإمام يكون بينه وبين العدو عهد فيسير إليه
باب: جب امام اور دشمن میں معاہدہ ہو تو امام دشمن کے ملک میں جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2759
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ غَزَاهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدَرَ، فَنَظَرُوا فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَشُدُّ عُقْدَةً وَلَا يَحُلُّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ"، فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ.
سلیم بن عامر سے روایت ہے، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے، وہ کہتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے، (اس مدت میں) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان سے جنگ کی، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے“، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2759]
سیدنا سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ قبیلہ حمیر سے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ (صلح و امن) ہو چکا تھا اور (معاویہ رضی اللہ عنہ ان ایام معاہدہ میں) ان کے علاقوں کی طرف کوچ کر رہے تھے تاکہ جونہی معاہدے کی مدت ختم ہو (اچانک) ان پر چڑھائی کر دیں، تو عربی گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر سوار ایک شخص ان کی طرف آیا۔ وہ «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، وفاداری ہو، غدر نہیں“ پکارتا آ رہا تھا۔ لوگوں نے دیکھا تو وہ صحابی رسول سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا اور پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کا دوسری قوم سے کوئی معاہدہ ہو تو وہ اس وقت تک کوئی نیا معاہدہ نہ کرے اور نہ اسے ختم کرے جب تک کہ پہلے معاہدے کی مدت باقی ہو یا برابری کی سطح پر اسے توڑنے کا اعلان کر دے۔“”چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 27 (1580)، (تحفة الأشراف: 10753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/111، 113، 385) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو اس لئے ناپسند کیا کیونکہ معاہدہ کی مدت پوری ہونے کے فوراً بعد دشمن کو آگاہ کئے بغیر جنگ نامناسب تھی اور بہتر یہ تھا کہ مدت پوری ہونے کے بعد دشمن کو آگاہ کر دیا جاتا پھر جنگ شروع کی جاتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3980)
أخرجه الترمذي (1580 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3980)
أخرجه الترمذي (1580 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1580
| من كان بينه وبين قوم عهد فلا يحلن عهدا ولا يشدنه حتى يمضي أمده أو ينبذ إليهم على سواء |
سنن أبي داود |
2759
| من كان بينه وبين قوم عهد فلا يشد عقدة ولا يحلها حتى ينقضي أمدها أو ينبذ إليهم على سواء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2759 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2759
فوائد ومسائل:
اختتام معاہدے کے فورا بعد اچانک چڑھائی کرنا دھوکے میں شمار کیا گیا ہے۔
اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اسلام اور مسلمانوں کے لئے اندھی عصبیت میں مبتلا نہ تھے۔
بلکہ اس کے تمام اصول وضوابط کو ہر حال میں پیش نظر رکھتے تھے۔
اختتام معاہدے کے فورا بعد اچانک چڑھائی کرنا دھوکے میں شمار کیا گیا ہے۔
اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اسلام اور مسلمانوں کے لئے اندھی عصبیت میں مبتلا نہ تھے۔
بلکہ اس کے تمام اصول وضوابط کو ہر حال میں پیش نظر رکھتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2759]
Sunan Abi Dawud Hadith 2759 in Urdu
سليم بن عامر الكلاعي ← عمرو بن عبسة السلمي