سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
180. باب في التجارة في الغزو
باب: جہاد میں تجارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي قَالَ: وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ؟ قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَ مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ، قَالَ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟“ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے (تجھ سے) زیادہ نفع کمایا ہے“ اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت (سنت کی) پڑھی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2785]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے عبید اللہ بن سلمان سے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنی اپنی غنیمتیں نکالیں، (یعنی) سامان اور قیدی اور انہیں بیچنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آج اتنا نفع حاصل کیا ہے کہ اس وادی والوں میں سے کسی کو کیا ملا ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا کما لیا ہے؟“ اس نے کہا: ”میں بیچتا رہا اور خریدتا رہا حتیٰ کہ تین سو اوقیہ کا نفع حاصل کر لیا ہے۔“ (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ نفع کمانے میں سب سے افضل کون ہے؟“ اس نے پوچھا: ”وہ کیا ہے اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں (فرض) نماز کے بعد۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15632) (ضعیف)» (اس کے راوی عبیداللہ بن سلمان مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبيد اللّٰه بن سلمان مجھول (تق : 4298)
و لم يوثقه أحد فيما أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
إسناده ضعيف
عبيد اللّٰه بن سلمان مجھول (تق : 4298)
و لم يوثقه أحد فيما أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2785
| أنا أنبئك بخير رجل ربح قال ما هو يا رسول الله قال ركعتين بعد الصلاة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2785 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2785
فوائد ومسائل:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوران سفر جہاد میں تجارت کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
ایسے تاجر کو جہاد میں اپنا پورا اجر اور غنیمت کا حصہ ملے گا۔
جیسے کہ سفر حج میں تجارت کرنا مباح اور جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
(لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ) (البقرة198) تم پرکوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔
ہاں اگر ان مبارک سفروں میں کسی کا مقصد ہی صرف تجارت کرنا ہو۔
جہاد یا حج محض دکھلاوا ہو۔
تو ہر شخص کےلئے وہی ہے۔
جو اس نے نیت کی۔
شیخ البانی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوران سفر جہاد میں تجارت کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
ایسے تاجر کو جہاد میں اپنا پورا اجر اور غنیمت کا حصہ ملے گا۔
جیسے کہ سفر حج میں تجارت کرنا مباح اور جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
(لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ) (البقرة198) تم پرکوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔
ہاں اگر ان مبارک سفروں میں کسی کا مقصد ہی صرف تجارت کرنا ہو۔
جہاد یا حج محض دکھلاوا ہو۔
تو ہر شخص کےلئے وہی ہے۔
جو اس نے نیت کی۔
شیخ البانی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2785]
Sunan Abi Dawud Hadith 2785 in Urdu
عبيد الله بن سلمان ← اسم مبهم