🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
180. باب في التجارة في الغزو
باب: جہاد میں تجارت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي قَالَ: وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ؟ قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَ مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ، قَالَ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے (تجھ سے) زیادہ نفع کمایا ہے اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت (سنت کی) پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15632) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبیداللہ بن سلمان مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبيد اللّٰه بن سلمان مجھول (تق : 4298)
و لم يوثقه أحد فيما أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عبيد الله بن سلمان
Newعبيد الله بن سلمان ← اسم مبهم
مجهول
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← عبيد الله بن سلمان
ثقة يرسل
👤←👥زيد بن سلام الحبشي
Newزيد بن سلام الحبشي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة
👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام
Newمعاوية بن سلام الحبشي ← زيد بن سلام الحبشي
ثقة
👤←👥الربيع بن نافع الحلبي، أبو توبة
Newالربيع بن نافع الحلبي ← معاوية بن سلام الحبشي
ثقة حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2785
أنا أنبئك بخير رجل ربح قال ما هو يا رسول الله قال ركعتين بعد الصلاة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2785 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2785
فوائد ومسائل:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوران سفر جہاد میں تجارت کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
ایسے تاجر کو جہاد میں اپنا پورا اجر اور غنیمت کا حصہ ملے گا۔
جیسے کہ سفر حج میں تجارت کرنا مباح اور جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
(لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ) (البقرة198) تم پرکوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔
ہاں اگر ان مبارک سفروں میں کسی کا مقصد ہی صرف تجارت کرنا ہو۔
جہاد یا حج محض دکھلاوا ہو۔
تو ہر شخص کےلئے وہی ہے۔
جو اس نے نیت کی۔
شیخ البانی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2785]