سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء في ذكاة الجنين
باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2882)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأضاحي 17(2022) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4091)
وللحديث شاھد حسن عند ابن حبان (1077)
مشكوة المصابيح (4091)
وللحديث شاھد حسن عند ابن حبان (1077)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2828
| ذكاة الجنين ذكاة أمه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2828 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2828
فوائد ومسائل:
اگربچہ زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا لازم ہوگا۔
ورنہ وہ ماں کی طرح ذبیحہ کا حصہ ہے۔
اور حلال ہے۔
اور اس کا کھانا جائز ہے.
اگربچہ زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا لازم ہوگا۔
ورنہ وہ ماں کی طرح ذبیحہ کا حصہ ہے۔
اور حلال ہے۔
اور اس کا کھانا جائز ہے.
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2828]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري