🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في السعاية على الصدقة
باب: زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسْبَاطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایمانداری سے زکاۃ کی وصولی وغیرہ کا کام کرنے والا شخص جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ لوٹ کر اپنے گھر آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2936]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: حق کے ساتھ صدقات جمع کرنے والا ایسے ہے جیسے کہ مجاہد فی سبیل اللہ حتیٰ کہ وہ گھر لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 18 (645)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 14 (1809)، (تحفة الأشراف: 3583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/143) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1785)
أخرجه الترمذي (645 وسنده حسن) وابن ماجه (1809 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (4/143)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥محمود بن لبيد الأشهلي، أبو نعيم
Newمحمود بن لبيد الأشهلي ← رافع بن خديج الأنصاري
له رؤية
👤←👥عاصم بن عمر الأنصاري، أبو محمد، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن عمر الأنصاري ← محمود بن لبيد الأشهلي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عاصم بن عمر الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن إبراهيم الكندي، أبو جعفر
Newمحمد بن إبراهيم الكندي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
645
العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع إلى بيته
سنن أبي داود
2936
العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع إلى بيته
سنن ابن ماجه
1809
العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع إلى بيته
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2936 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2936
فوائد ومسائل:
جہاں صدقات و زکوۃ ادا کرنے کی فضیلت اور اجر ہے۔
وہاں انھیں مسلمانوں سے اکھٹا کرکے امانت اور دیانت سے بیت المال سے جمع کرانے والا بھی صاحب فضیلت ہے۔
جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور دیگر صالحین امت یہ کام کرتے رہے ہیں۔
اور اگر کوئی عامل واجب شرعی سے مزید طلب کرے تو حرام ہے۔
ہمارے موجودہ احوال سے جب سے حکومت نے اس مد سے دستبرداری اختیار کی ہے۔
تو مسلمان اپنے طور پر یہ وظیفہ ادا کرتے ہیں۔
اور اسلامی اشاعت کرنے والے ادارے اسی مد سے اپنا خرچ پورا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ رقومات حاصل کرنا اور جمع کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔
جب کہ نادان مسلمان ایسے افراد کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
جو یکسر غلط اور داعیان حق کی حوصلہ شکنی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شرعی ذمہ داری سے یہ کام کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجر ہے۔
ان شاء اللہ۔
البتہ جولوگ اس میں خیانت کرکے غلول (بددیانتی) جیسے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
وہ قابل نفرین ہے۔
اور آج کے دور میں ان کی کثرت ہے۔
یہ صحیح لوگوں کے لئے بھی باعث بدنامی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2936]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1809
زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آ جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1809]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حق کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اکر اتنی مقدار وصول کرے جتنی شرعاً کسی پر واجب ہے۔
نہ زیادہ طلب کرکے زکاۃ دینے والوں پر ظلم کرے اور نہ کم وصول کر کے مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنے۔
اسلامی سلطنت میں ایمانداری سے سرکاری ملازمت کے فرائض انجام دینا، اسلام اور اسلامی سلطنت کی خدمت ہے۔
مجاہد اسلامی سلطنت کو دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تگ و دو کرتا ہے اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔
اسی طرح مالی معاملات کے فرائض انجاد دینے والا بھی سلطنت کی معاشی سرحدوں کی حفاظت کر کے اسے مضبوط بناتا ہے جس کی وجہ سے دشمن حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا، اس لحاظ سے اس کے فرائض بھی کچھ کم اہم نہیں۔
اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینا بڑے ثواب کا کام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1809]

Sunan Abi Dawud Hadith 2936 in Urdu