سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في قسم الفىء
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2951
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: عَطَاءُ الْمُحَرَّرِينَ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا جَاءَهُ شَيْءٌ بَدَأَ بِالْمُحَرَّرِينَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کس ضرورت سے آنا ہوا؟ کہا: آزاد کئے ہوئے غلاموں کا حصہ لینے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ کے پاس فیٔ کا مال آتا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزاد غلاموں کا حصہ دینا شروع کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2951]
جناب زید بن اسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے پوچھا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) آپ کس ضرورت سے تشریف لائے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”آپ آزاد شدہ غلاموں (اور لونڈیوں) کا حصہ ادا کریں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی مال آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس میں سے) آزاد شدہ غلاموں (اور لونڈیوں) کو پہلے دیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6729) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آزاد غلاموں کا نام حکومت کے رجسٹر میں نہیں رہتا تھا اس لئے وہ بیچارے محروم رہ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان غلاموں کی بابت یاد دلایا اور ان کے حق میں عطیات کے سلسلہ میں سفارش کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4058)
مشكوة المصابيح (4058)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2951
| أول ما جاءه شيء بدأ بالمحررين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2951 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2951
فوائد ومسائل:
محررون سے مراد وہ لوگ ہیں۔
جو پہلے غلام تھے پھر آذاد ہوگئے، دیوان میں ان کا مستقل اندراج نہ ہوتا تھا۔
بلکہ اپنے آقائوں کے ساتھ ہی اس کا اندراج ہوتا، اب آزاد ہونے کے بعد ان کی مستقل حیثیت کو تسلیم کرنا اور ان کا باقاعدہ حصہ دینا ضروری تھا، کیونکہ اب ان کی ضرورتوں کی ذمہ داری ان کے سابق آقائوں پر نہ تھی۔
بعض علماء محررون سے وہ غلام مراد لیتے ہیں۔
جنھوں نے مالکوں سے یہ معاہدہ طے کرلیا ہو کہ وہ اپنی متفق علیہ قیمت مالکوں کو ادا کرکےآذاد ہوں گے۔
اس ادائگی میں ان کی مدد بیت المال سے کی جائے گی۔
محررون سے مراد وہ لوگ ہیں۔
جو پہلے غلام تھے پھر آذاد ہوگئے، دیوان میں ان کا مستقل اندراج نہ ہوتا تھا۔
بلکہ اپنے آقائوں کے ساتھ ہی اس کا اندراج ہوتا، اب آزاد ہونے کے بعد ان کی مستقل حیثیت کو تسلیم کرنا اور ان کا باقاعدہ حصہ دینا ضروری تھا، کیونکہ اب ان کی ضرورتوں کی ذمہ داری ان کے سابق آقائوں پر نہ تھی۔
بعض علماء محررون سے وہ غلام مراد لیتے ہیں۔
جنھوں نے مالکوں سے یہ معاہدہ طے کرلیا ہو کہ وہ اپنی متفق علیہ قیمت مالکوں کو ادا کرکےآذاد ہوں گے۔
اس ادائگی میں ان کی مدد بیت المال سے کی جائے گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2951]
Sunan Abi Dawud Hadith 2951 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي