🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في كراهية الافتراض في آخر الزمان
باب: آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْت رَجُلًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رِشًا فَدَعُوهُ"، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے (لوگوں کو اچھی باتوں کا) حکم دیا (اور انہیں بری باتوں سے) منع کیا پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) انہیں پہنچا دیا، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے (یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے) تو اسے چھوڑ دو۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد ۱؎ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2959]
سلیم بن مطیر نے اپنے والد سے بیان کیا اور یہ وادی القریٰ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد نے کہا: میں نے ایک صاحب سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کچھ احکام بیان کیے اور کچھ سے منع فرمایا، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» اے اللہ! میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اے اللہ! (ہم گواہ ہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل قریش آپس میں حکومت کے لیے جھگڑنے لگیں اور عطیے رشوت بن جائیں تو پھر انہیں چھوڑ دینا۔ پوچھا گیا کہ یہ بیان کرنے والا کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3546) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ضعیف اور مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ اہل مدینہ میں سے ایک صحابی کا لقب ہے، ان کے نام کا پتہ نہیں چل سکا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2958)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥مطير بن سليم الوادي
Newمطير بن سليم الوادي ← اسم مبهم
مجهول الحال
👤←👥سليم بن مطير الوادي
Newسليم بن مطير الوادي ← مطير بن سليم الوادي
مقبول
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سليم بن مطير الوادي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2958
خذوا العطاء ما كان عطاء فإذا تجاحفت قريش على الملك وكان عن دين أحدكم فدعوه
سنن أبي داود
2959
عاد العطاء أو كان رشا فدعوه فقيل من هذا قالوا هذا ذو الزوائد صاحب رسول الله
Sunan Abi Dawud Hadith 2959 in Urdu