سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في كراهية الافتراض في آخر الزمان
باب: آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْت رَجُلًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رِشًا فَدَعُوهُ"، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے (لوگوں کو اچھی باتوں کا) حکم دیا (اور انہیں بری باتوں سے) منع کیا پھر فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) انہیں پہنچا دیا“، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے (یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے) تو اسے چھوڑ دو“۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد ۱؎ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2959]
سلیم بن مطیر نے اپنے والد سے بیان کیا اور یہ وادی القریٰ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد نے کہا: میں نے ایک صاحب سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کچھ احکام بیان کیے اور کچھ سے منع فرمایا، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ”اے اللہ! میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں، اے اللہ! (ہم گواہ ہیں)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل قریش آپس میں حکومت کے لیے جھگڑنے لگیں اور عطیے رشوت بن جائیں تو پھر انہیں چھوڑ دینا۔“ پوچھا گیا کہ یہ بیان کرنے والا کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3546) (ضعیف)» (اس کی سند میں ضعیف اور مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ اہل مدینہ میں سے ایک صحابی کا لقب ہے، ان کے نام کا پتہ نہیں چل سکا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2958)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2958)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥مطير بن سليم الوادي مطير بن سليم الوادي ← اسم مبهم | مجهول الحال | |
👤←👥سليم بن مطير الوادي سليم بن مطير الوادي ← مطير بن سليم الوادي | مقبول | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سليم بن مطير الوادي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2958
| خذوا العطاء ما كان عطاء فإذا تجاحفت قريش على الملك وكان عن دين أحدكم فدعوه |
سنن أبي داود |
2959
| عاد العطاء أو كان رشا فدعوه فقيل من هذا قالوا هذا ذو الزوائد صاحب رسول الله |
Sunan Abi Dawud Hadith 2959 in Urdu
مطير بن سليم الوادي ← اسم مبهم