علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَفَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت (اپنے والد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کی طلب گار تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس میں سے بچ رہا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اس مال میں سے (یعنی اللہ کے مال میں سے) صرف اپنے کھانے کی مقدار لے گی“ اس مال میں خوراکی کے سوا ان کا کوئی حق نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2969]
عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی، اس روایت میں عروہ کہتے ہیں کہ: ”ان دنوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کا مطالبہ کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس کا بقیہ چھوڑ گئے تھے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال میں سے کھائیں گے۔“ یعنی اللہ کے مال میں سے اور انہیں حق نہیں کہ کھانے پینے کے اخراجات سے زیادہ لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6630) (صحیح)» (لیکن «مال اللہ» کا لفظ صحیح نہیں اور یہ مؤلف کے سوا کسی اور کے یہاں بھی نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله يعني مال الله
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3711، 3712)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥عثمان بن كثير القرشي، أبو عمرو عثمان بن كثير القرشي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة | |
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص عمرو بن عثمان القرشي ← عثمان بن كثير القرشي | ثقة |
Sunan Abi Dawud Hadith 2969 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق