🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَغَلَبَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهَا وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دینے سے انکار کیا اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے مدینہ کے صدقے کو علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی تحویل میں دے دیا، علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی (یعنی خلیفہ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2970]
جناب عروہ نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔ عروہ نے اس روایت میں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے) انکار کر دیا اور کہا: جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہیں، میں اس میں سے کچھ ترک نہیں کروں گا، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں سے کچھ بھی ترک کر دیا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ صدقہ جو مدینے میں تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی تولیت میں دے دیا، بعد ازاں اس معاملے میں علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے تھے۔ خیبر اور فدک کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی نگرانی میں رکھا اور کہا: یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ صدقہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتفاقی حقوق و اخراجات کے لیے تھے، ان کی تولیت خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہو گی۔ چنانچہ وہ آج تک اسی طرح ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2968)، (تحفة الأشراف: 6630) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3092) صحيح مسلم (1759)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد
Newالحجاج بن الشاعر ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2970 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2970
فوائد ومسائل:

ان احادیث میں مال فے اور خمس کو صدقہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یعنی جو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔
نہ کہ وہ معروف صدقہ جو لوگ اپنے مالوں میں سے نکالا کرتے ہیں۔

فهما علی ذلك إلی اليوم، چنانچہ وہ آج تک اسی طرح ہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت تک تو اس پرعمل ہوتا رہا۔
مگر بعد کے زمانوں میں اس کی تقسیم ہوگئی۔
اور اس کی وہ حیثیت برقرار نہ رہ سکی۔
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2970]

Sunan Abi Dawud Hadith 2970 in Urdu