یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في بيان مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربى
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ، وَعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَا: لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغْنَا مِنَ السِّنِّ مَا تَرَى وَأَحْبَبْنَا أَنْ نَتَزَوَّجَ، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُهُمْ وَلَيْسَ عِنْدَ أَبَوَيْنَا مَا يُصْدِقَانِ عَنَّا فَاسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ فَلْنُؤَدِّ إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي الْعُمَّالُ وَلْنُصِبْ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ مَرْفَقٍ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَ لَنَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا وَاللَّهِ لَا نَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ"، فَقَالَ لَهُ رَبِيعَةُ: هَذَا مِنْ أَمْرِكَ قَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَحْسُدْكَ عَلَيْهِ، فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِجَوَابِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَى بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نُوَافِقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَدْ قَامَتْ فَصَلَّيْنَا مَعَ النَّاسِ ثُمَّ أَسْرَعْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَى بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُمْنَا بِالْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِأُذُنِي وَأُذُنِ الْفَضْلِ، ثُمَّ قَالَ:" أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ"، ثُمَّ دَخَلَ فَأَذِنَ لِي وَلِلْفَضْلِ فَدَخَلْنَا فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ قَلِيلًا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ أَوْ كَلَّمَهُ الْفَضْلُ قَدْ شَكَّ فِي ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: كَلَّمَهُ بِالأَمْرِ الَّذِي أَمَرَنَا بِهِ أَبَوَانَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً وَرَفَعَ بَصَرَهُ قِبَلَ سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى طَالَ عَلَيْنَا أَنَّهُ لَا يَرْجِعُ إِلَيْنَا شَيْئًا حَتَّى رَأَيْنَا زَيْنَبَ تَلْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ بِيَدِهَا تُرِيدُ أَنْ لَا تَعْجَلَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِنَا ثُمَّ خَفَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَنَا:" إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ ادْعُوا لِي نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ، فَدُعِيَ لَهُ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ: يَا نَوْفَلُ أَنْكِحْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي نَوْفَلٌ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُبَيْدٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَخْمَاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَحْمِيَةَ: أَنْكِحْ الْفَضْلَ فَأَنْكَحَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ فَأَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا"، لَمْ يُسَمِّهِ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ.
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے ان سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ اللہ کے رسول! ہم جس عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، اور ہم شادی کرنے کے خواہاں ہیں، اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رشتہ و ناتے کا خیال رکھنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کے رسول! ہمیں صدقہ وصولی کے کام پر لگا دیجئیے جو دوسرے عمال وصول کر کے دیتے ہیں وہ ہم بھی وصول کر کے دیں گے اور جو فائدہ (یعنی حق محنت) ہو گا وہ ہم پائیں گے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اسی حال میں تھے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے ہم سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قسم اللہ کی! ہم تم میں سے کسی کو بھی صدقہ کی وصولی کا عامل نہیں بنائیں گے ۱؎“۔ اس پر ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو، تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل کیا تو ہم نے تم سے کوئی حسد نہیں کیا، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ اپنی چادر بچھا کر اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: میں ابوالحسن سردار ہوں (جیسے اونٹوں میں بڑا اونٹ ہوتا ہے) قسم اللہ کی! میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک کہ تمہارے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بات کا جواب لے کر نہ آ جائیں جس کے لیے تم نے انہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں گئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ظہر کھڑی ہو گئی ہم نے سب کے ساتھ نماز جماعت سے پڑھی، نماز پڑھ کر میں اور فضل دونوں جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کی طرف لپکے، آپ اس دن ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اور ہم دروازے پر کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور (پیار سے) میرے اور فضل کے کان پکڑے، اور کہا: ”بولو بولو، جو دل میں لیے ہو“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں چلے گئے اور مجھے اور فضل کو گھر میں آنے کی اجازت دی، تو ہم اندر چلے گئے، اور ہم نے تھوڑی دیر ایک دوسرے کو بات چھیڑنے کے لیے اشارہ کیا (تم کہو تم کہو) پھر میں نے یا فضل نے (یہ شک حدیث کے راوی عبداللہ کو ہوا) آپ سے وہی بات کہی جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھڑی تک چپ رہے، پھر نگاہیں اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیر تک تکتے رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی جواب نہ دیں، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ پردے کی آڑ سے (ام المؤمنین) زینب رضی اللہ عنہا اشارہ کر رہی ہیں کہ تم جلدی نہ کرو (گھبراؤ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہی مطلب کی فکر میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو نیچا کیا، اور فرمایا: ”یہ صدقہ تو لوگوں (کے مال) کا میل (کچیل) ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل (و اولاد) کے لیے حلال نہیں ہے، (یعنی بنو ہاشم کے لیے صدقہ لینا درست نہیں ہے) نوفل بن حارث کو میرے پاس بلاؤ“ چنانچہ نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوفل! اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب سے کر دو“، تو نوفل نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ“، محمیۃ بن جزء رضی اللہ عنہ بنو زبید کے ایک فرد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خمس کی وصولی کا عامل بنا رکھا تھا (وہ آئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم فضل کا (اپنی بیٹی سے) نکاح کر دو“، تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) کہا: ”جاؤ مال خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا ادا کر دو“۔ (ابن شہاب کہتے ہیں) عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2985]
جناب عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب نے عبدالمطلب بن ربیعہ (مجھ سے) اور فضل بن عباس سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر درخواست کرو کہ اے اللہ کے رسول! ہم اس عمر کو پہنچ گئے ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں (بھرپور جوان ہیں) اور ہم شادیاں کرنا چاہتے ہیں اور آپ اے اللہ کے رسول! سب سے بڑھ کر حسن سلوک اور سب سے عمدہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس ہمارے حق مہر کے لیے کچھ نہیں ہے، تو آپ اے اللہ کے رسول! ہمیں صدقات کا عامل بنا دیجیے، ہم وہی کریں گے جو دوسرے عامل کرتے ہیں اور ہمیں ہمارا حق الخدمت جو ہو گا مل جائے گا۔“ عبدالمطلب نے کہا: ہم یہی گفتگو کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آ گئے، تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کو صدقے پر عامل نہیں بنائیں گے۔“ تو ربیعہ نے ان سے کہا: ”یہ تمہاری بات ہے کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی مل گئی ہے، ہمیں تو اس پر تم سے کوئی حسد نہیں ہے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: ”میں ابوالحسن ہوں اور معاملہ فہم بھی! (جیسے کہ بڑا اونٹ ہوتا ہے) اللہ کی قسم! میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ تمہارے صاحبزادے جواب لے کر نہیں آ جاتے، جس مقصد کے لیے آپ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے۔“ عبدالمطلب کہتے ہیں چنانچہ میں اور فضل (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کی طرف) گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ظہر کا وقت ہو چکا ہے اور جماعت کھڑی ہو گئی ہے تو ہم نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھی۔ پھر جلدی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کے پاس آ گئے۔ آپ اس دن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔ ہم دروازے کے پاس کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پیار سے) میرے اور فضل کے کان پکڑ لیے اور فرمایا: ”نکالو جو تمہارے جی میں ہے۔“ پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور ہمیں اندر آنے کی اجازت دی تو ہم اندر چلے گئے۔ اور ہم تھوڑی دیر تک بات کرنے کو ایک دوسرے پر ٹالتے رہے (میں کہتا کہ تم بات کرو وہ کہتا کہ تم کرو) بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات کی یا فضل نے، عبداللہ بن حارث کو شک ہے۔ اور ہمارے باپوں نے جو کہا تھا ہم نے آپ کے گوش گزار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھڑی کے لیے خاموش ہو گئے۔ آپ نے اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ بہت وقت گزر گیا اور آپ ہمیں کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ حتیٰ کہ ہم نے دیکھا کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ہمیں اشارہ کیا یعنی جلدی مت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہی بارے میں فکر کر رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکایا اور فرمایا: ”یہ صدقہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے اور یہ محمد اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ہے۔ نوفل بن حارث کو میرے پاس بلا لاؤ۔“ چنانچہ انہیں بلایا گیا۔ آپ نے ان سے کہا: ”نوفل! عبدالمطلب سے (اپنی بیٹی کا) نکاح کر دو۔“ چنانچہ نوفل نے میرے ساتھ (اپنی بیٹی کا) نکاح کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محمیہ بن جزء کو بلا لاؤ۔“ وہ بنو زبیدہ میں سے تھے۔ اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کا نگران بنایا ہوا تھا۔ آپ نے اس سے کہا: ”محمیہ! فضل سے (اپنی بیٹی کا) نکاح کر دو۔“ چنانچہ اس نے بھی کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اٹھو اور انہیں خمس میں سے اتنا اتنا حق مہر ادا کر دو۔“ زہری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن حارث نے مجھے اس کی مقدار بیان نہیں کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 51 (1072)، سنن النسائی/الزکاة 95 (2610)، (تحفة الأشراف: 9737)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/166) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ کسی منصب اور ذمہ داری کے خواہاں کو آپ ذمہ داری نہیں سونپتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1072)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2985
| لا نستعمل منكم أحدا على الصدقة فقال له ربيعة هذا من أمرك قد نلت صهر رسول الله فلم نحسدك عليه فألقى علي رداءه ثم اضطجع عليه فقال أنا أبو حسن القرم والله لا أريم حتى يرجع إليكما ابناكما بجواب ما بعثتما به إلى النبي قال |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2985 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2985
فوائد ومسائل:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صدقات کا عامل نہ بنایا۔
البتہ خمس میں سے ان کی شادیوں کےلئے خرچ فرمایا۔
اسی طریقے پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک عمل رہا۔
2۔
اس مقصد کےلئے بیت المال سے مادی تعاون دینا جائز ہے۔
جیسے کہ اہل بیت کےلئے خمس سے لینا جائز تھا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب مصلحت اسے خرچ فرمایا کرتے تھے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صدقات کا عامل نہ بنایا۔
البتہ خمس میں سے ان کی شادیوں کےلئے خرچ فرمایا۔
اسی طریقے پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک عمل رہا۔
2۔
اس مقصد کےلئے بیت المال سے مادی تعاون دینا جائز ہے۔
جیسے کہ اہل بیت کےلئے خمس سے لینا جائز تھا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب مصلحت اسے خرچ فرمایا کرتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2985]
Sunan Abi Dawud Hadith 2985 in Urdu
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي