سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب ما جاء في حكم أرض خيبر
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ يَذْكُرُ لِي، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، قَالَ:" قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا".
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: (2736)، (تحفة الأشراف: 11214) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہی لوگ مکہ سے آ کر خیبر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2736)
انظر الحديث السابق (2736)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3015
| قسمت خيبر على أهل الحديبية فقسمها رسول الله على ثمانية عشر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3015 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3015
فوائد ومسائل:
مجاہدین کی یہ تعداد اندازے سے بتائی گئ۔
جبکہ صحیح تعداد چودہ سو تھی۔
اور گھوڑوں کی تعداد دو سو۔
گھوڑوں کے مستقل حصے چار سو ہوئے۔
اور مجاہدین کے چودہ سو۔
کل اٹھارہ سو۔
یا یوں سمجھ لیں کہ دو سو گھڑ سواروں کے حصے چھ سو ہوئے۔
اور باقی بارہ سو مجاہدین کے بارہ سو کل اٹھارہ سو۔
مجاہدین کی یہ تعداد اندازے سے بتائی گئ۔
جبکہ صحیح تعداد چودہ سو تھی۔
اور گھوڑوں کی تعداد دو سو۔
گھوڑوں کے مستقل حصے چار سو ہوئے۔
اور مجاہدین کے چودہ سو۔
کل اٹھارہ سو۔
یا یوں سمجھ لیں کہ دو سو گھڑ سواروں کے حصے چھ سو ہوئے۔
اور باقی بارہ سو مجاہدین کے بارہ سو کل اٹھارہ سو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3015]
عبد الرحمن بن جارية الأنصاري ← مجمع ابن جارية الأنصاري