🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب في إخراج اليهود من جزيرة العرب
باب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوٍ مِمَّا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ: فَأُنْسِيتُهَا، وقَالَ: الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: لَا أَدْرِي أَذَكَرَ سَعِيدٌ الثَّالِثَةَ فَنَسِيتُهَا، أَوْ سَكَتَ عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) تین چیزوں کی وصیت فرمائی (ایک تو یہ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا، دوسرے یہ کہ وفود (ایلچیوں) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو کیا) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3029]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی: مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور وفود سے اسی طرح برتاؤ کرتے رہنا جیسے کہ میں کیا کرتا ہوں اور تیسری بات کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یا تو یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تھے یا یہ کہا کہ میں (ہی) بھول گیا ہوں۔ حمیدی نے سفیان سے روایت کیا کہ سلیمان نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ سعید بن جبیر نے تیسری بات ذکر کی تھی تو میں بھول گیا ہوں یا وہ (ابن عباس رضی اللہ عنہ) ہی خاموش رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 175 (3053)، الجزیة 6 (3168)، المغازي 83 (4431)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1637)، (تحفة الأشراف: 5517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/222) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3053) صحيح مسلم (1637)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن أبي مسلم الأحول
Newسليمان بن أبي مسلم الأحول ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن أبي مسلم الأحول
ثقة حافظ حجة
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3029
أوصى بثلاثة فقال أخرجوا المشركين من جزيرة العرب أجيزوا الوفد بنحو مما كنت أجيزهم
مسندالحميدي
536
ايتوني أكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده أبدا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3029 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3029
فوائد ومسائل:

جزیرۃ العرب یہ علاقہ بحر ہند بحر قلزم۔
بحر شام۔
اور دجلہ فرات سے گھرا ہوا ہونے کی وجہ سے جزیرہ کہلاتا ہے۔
اور یہ زمانہ قدیم سے اہل عرب کا وطن ہے۔
اس کی حدود طول میں عدن سے اطراف شام اور جدہ سے ریف عراق تک پھیلی ہوئی ہیں۔
(نیل الأوطار، باب منع أھل الذمة من سکنی الحجاز:72/8) یہ چونکہ اسلام کا اولین مرکزہے۔
اور یہیں سے اسلام کی اشاعت پوری دنیا میں ہونی تھی، اس لئے اس کو یہود ونصاریٰ کے دجل سے محفوظ رکھنا ضروری تھا اور ہے، سازش کے ذریعے سے یہود نے عیسایئت کا چہرہ مسخ کیا اور یہ دونوں بلکہ مجوس اور مشرکین کی یہ کوششیں کہ اسلام میں خود ساختہ چیزیں ملائی جایئں اوائل اسللام ہی میں سامنے آگئی تھیں۔


تیسری بات بھولنے کا واقعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے یا سفیان بن عینیہ کا حافظ اب حجر کے نزدیک زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ ابن عینیہ نے یہ کہا کہ میں تیسری بات بھول گیا ہوں۔
وہ تیسری بات کیا تھی۔
جسے ابن عینیہ بھول گئے؟ اس کی بابت موطا امام مالک میں اشارہ ہے کہ تیسری بات یہ ہوسکتی ہے۔
کہ میری قبر کو میرے بعد بت نہ بنا لینا۔
جس طرح موطا کی روایت میں یہ اخراج یہود کے ساتھ مذکورہ ہے یا جس طرح حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں تیسری تقلین، نماز اور غلاموں کا خیال کھنا ہوسکتی ہے۔
(فتح الباري، کتاب المغازي باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفانه) مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالنے کے معنی میں بت پرست مشرک یہہود ونصاریٰ اور مجوس سبھی شامل ہیں اور انہیں یہاں سے نکال باہرکرنا واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3029]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:536
536- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جمعرات کا دن بھی کیا تھا؟ پھر وہ رونے لگے، یہاں تک کہ ان کے آنسو زمین پر گرنے لگے۔ ان سے کہا گیا: اے ابوعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: جمعرات کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں اضافہ ہوگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کوئی چیز لے آؤ تاکہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ (سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) تو حاضرین میں اس بارے میں اختلاف ہوگیا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس طرح کا اختلاف مناسب نہیں ہے۔ کسی صاحب نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:536]
فائدہ:
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب چند دن پہلے کے بخار کی شدت کا بیان ہے، اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کہا: کہ میرے پاس کاغذ لاؤ، پھر جولکھوانا چاہتے تھے، وہ زبانی بول کر بیان کر دیں۔ اس حدیث کو بعض گمراہ لوگ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار بھی ہوتا تھا، اس کی تکالیف بھی آپ محسوس کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا بہت غم کرتے تھے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ وصیت لکھ کر اور بول کر دونوں صورتوں میں درست ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 536]

Sunan Abi Dawud Hadith 3029 in Urdu