🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب في أخذ الجزية
باب: جزیہ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3037]
جناب عاصم بن عمر رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور جناب عثمان بن ابی سلیمان رحمہ اللہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اور کچھ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم) کو دومہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف روانہ کیا، تو انہوں نے اسے پکڑ لیا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) لے آئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ کی ادائیگی پر صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 937، 19002) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن أبي سليمان القرشيثقة
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← عثمان بن أبي سليمان القرشي
صحابي
👤←👥عاصم بن عمر الأنصاري، أبو محمد، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن عمر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عاصم بن عمر الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← ابن إسحاق القرشي
ثقة متقن
👤←👥سهل بن محمد العسكري، أبو داود، أبو سعيد
Newسهل بن محمد العسكري ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← سهل بن محمد العسكري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3037
بعث خالد بن الوليد إلى أكيدر دومة فأخذ فأتوه به فحقن له دمه وصالحه على الجزية
بلوغ المرام
1124
بعث خالد بن الوليد إلى اكيدر دومة فاخذوه فاتوا به فحقن له دمه وصالحه على الجزية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3037 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3037
فوائد ومسائل:

مملکت اسلامیہ اپنی غیر مسلم رعایا سے ایک ٹیکس لیتی ہے۔
جو ان کی وہاں سہولت ورہائش اور ان کی جانوں مالوں اور عزتوں کی حفاظت کرنے کے بدلے میں لے لیا جاتا ہے۔
اور وہ سرحدوں کی حفاظت اور (دفاع) قتال جیسی ذمہ داریوں کے مکلف نہیں ہوتے۔
اسی ٹیکس کو جزیہ کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
(قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ) (التوبة:29) قتال کرو ان سے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔
اور نہ قیامت کو تسلیم کرتے ہیں۔
اور نہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کوحرام گردانتے ہیں۔
اور نہ سچے دین کے تابع ہوتے ہیں۔
یعنی وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی۔
(ان سے قتال کرتے رہو) حتیٰ کہ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہوتےہوئے جزیہ ادا کریں۔
مسلمان سوسائٹی کی بہبود کےلئےذکواۃ ادا کرتے ہیں۔
یہ ایک اعزاز ہے۔
غیر مسلم رعایا سے زکواۃ وصول نہیں کی جاتی۔
بلکہ اس سے کم مقدار میں جزیہ وصول کیا جاتا ہے۔


اکیدر دومہ غسانی عرب تھا۔
اور یہ دلیل ہے کہ غیرمسلم عرب سے بھی جزیہ لینا ضروری ہے۔
جیسے کہ عجمیوں سے لیا جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3037]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1124
جزیہ اور صلح کا بیان
عاصم بن عمر رحمہ اللہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومہ الجندل کے حکمران اکیدر کے پاس بھیجا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون نہ بہایا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی۔ (ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 1124»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج، باب في أخذ الجزية، حديث:3037.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرب اہل کتاب سے بھی جزیہ لینا جائز ہے۔
2. اکیدر عرب کا ایک عیسائی رئیس تھا اور غسانی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عاصم بن عمر رحمہ اللہ» ‏‏‏‏ ابوعمر عاصم بن عمر بن قتادہ بن نعمان انصاری ثقہ تھے‘ تابعی تھے اور کثیر الحدیث تھے۔
علم دین کے بہت بڑے راوی تھے‘ مغازی اور سیرت کے علم سے بہرہ ور تھے۔
ان کے سن وفات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: ۱۱۹‘ ۱۲۰‘ ۱۲۱‘ ۱۲۷‘ ۱۲۹ ہجری وغیرہ۔
«حضرت عثمان بن ابو سلیمان رحمہ اللہ» ‏‏‏‏ عثمان بن ابی سلیمان بن جبیر بن مطعم‘ مکہ کے قاضی تھے۔
امام احمد‘ ابن معین اور ابو حاتم رحمہم اللہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔
عثمان چونکہ تابعی ہیں‘ اس لیے عاصم کی یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے متصلاً اور عثمان سے مرسلاً ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1124]

Sunan Abi Dawud Hadith 3037 in Urdu