سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في إقطاع الأرضين
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3062
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ، قَالَ الْعَبَّاسُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ: جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا، وَقَالَ غَيْرُ الْعَبَّاسُ: جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ. قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ.
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ۱؎۔ (ابوداؤد کہتے ہیں) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے) اور قدس (ایک پہاڑ کا نام ہے) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی، وہ اس طرح تھی: ”بسم الله الرحمن الرحيم،، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا“۔ ابواویس راوی کہتے ہیں: مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3062]
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی اپنے والد (عبداللہ) اور وہ اپنے دادا (عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو مقام قبل کی کانیں عنایت فرمائی تھیں، ان کی بالائی جانب، نیچے کی جانب اور قدس پہاڑ کے اطراف جہاں کاشت ہو سکتی ہے۔ (عباس کے علاوہ باقی راویوں نے «جَلْسَيْهَا وَغَوْرَيْهَا» کی بجائے «جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا» کے الفاظ استعمال کیے ہیں، ان کے معنی بھی وہی ہیں۔) کسی دوسرے مسلمان کا حق انہیں نہیں دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تحریر دی تھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”یہ وہ عطیہ ہے جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث بن مزنی رضی اللہ عنہ کو دیا ہے۔ اسے مقام قبل کی کانیں، ان کے بالائی اور زیریں حصے اور قدس پہاڑ کے اطراف جہاں کاشت ہو سکتی ہے، عطا کی ہیں اور کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6015، 10777) (حسن)» (کثیر کی روایت متابعات وشواہد سے تقویت پا کر حسن ہے، ورنہ کثیر خود ضعیف راوی ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کے نام سے الاٹ کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
طريق ثور بن زيد: سنده حسن، وأخرجه البيھقي (6/151 وسنده حسن)
طريق ثور بن زيد: سنده حسن، وأخرجه البيھقي (6/151 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3062
| أقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية جلسيها وغوريها وقال غيره جلسها وغورها وحيث يصلح الزرع من قدس ولم يعطه حق مسلم وكتب له النبي بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما أعطى محمد رسول الله بلال بن الحارث المزني أعطاه معادن القبلية جلسيها وغوريها وقال غير العباس |
Sunan Abi Dawud Hadith 3062 in Urdu
عبد الله بن عمرو المزني ← عمرو بن عوف المزني