سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في إقطاع الأرضين
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ، فَأَقَامَ ثَلَاثًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ:" مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ؟ فَقَالُوا: بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ: قَدْ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ فَاقْتَسَمُوهَا فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ فَعَمِلَ"، ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ.
ربیع جہنی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا، وہاں تین دن قیام کیا، پھر تبوک ۱؎ کے لیے نکلے، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے؟“، لوگوں نے کہا: بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،، میں یہ زمین (علاقہ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا، اور اس میں محنت و مشقت (یعنی زراعت) کی۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3068]
سبرہ بن عبدالعزیز بن ربیع جہنی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے علاقے میں) ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا جہاں اب مسجد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن ٹھہرے، پھر وہاں سے تبوک کی طرف روانہ ہوئے اور قبیلہ جہینہ کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کھلے میدان میں ملاقات کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”مقام ذی مروہ میں کون لوگ مقیم ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جہینہ کا خاندان بنو رفاعہ یہاں رہتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زمین میں بنو رفاعہ کے نام کرتا ہوں۔“ چنانچہ ان لوگوں نے وہ (زمین) آپس میں بانٹ لی، ان میں سے کسی نے بیچ دی، کسی نے رکھ لی اور اس میں محنت مشقت (کاشت کاری وغیرہ) کرنے لگے۔ (ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) پھر میں نے سبرہ کے والد عبدالعزیز سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کا کچھ حصہ بیان کیا اور پوری حدیث بیان نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3812) (ضعیف)» (ربیع جہنی تابعی ضعیف ہیں، اور حدیث مرسل ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 2/457)
وضاحت: ۱؎: تبوک مدینہ سے شمال شام کی طرف ایک جگہ کا نام ہے، جہاں نو ہجری میں لشکر اسلام گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالعزيز بن الربيع بن سبرة : لم يسمع من جده لأنه من الطبقة السابعة
انظر التقريب (4091) واللّٰه أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
إسناده ضعيف
عبدالعزيز بن الربيع بن سبرة : لم يسمع من جده لأنه من الطبقة السابعة
انظر التقريب (4091) واللّٰه أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3068
| من أهل ذي المروة فقالوا بنو رفاعة من جهينة فقال قد أقطعتها لبني رفاعة فاقتسموها فمنهم من باع ومنهم من أمسك فعمل |
Sunan Abi Dawud Hadith 3068 in Urdu
الربيع بن سبرة الجهني ← عبد العزيز بن الربيع الجهني