سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب في إحياء الموات
باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہو گا) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 38 (1378)، (تحفة الأشراف: 19043، 4463)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 24 (26) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کوئی ظالم اس کی آباد اور قابل کاشت بنائی ہوئی زمین کو چھین نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2944)
أخرجه الترمذي (1387 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2944)
أخرجه الترمذي (1387 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3073
| من أحيا أرضا ميتة فهي له ليس لعرق ظالم حق |
بلوغ المرام |
777
| من أحيا أرضا ميتة فهي له |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3073 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3073
فوائد ومسائل:
1۔
چونکہ آج کل حکومت تمام زمینوں کی مالک اور متصرف ہوتی ہے۔
اس لئے پہلے اس سے اجازت لینا قرین قیاس ہے۔
ویسے حکومت سے بھی آباد کاری اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔
2۔
ظالم رگ سے مراد وہ درخت بھی ہیں۔
جو کوئی کسی دوسرے زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے۔
یا مکان بنالے۔
اسے کہا جائے گا۔
کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھالے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہوجائے جیسے کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔
1۔
چونکہ آج کل حکومت تمام زمینوں کی مالک اور متصرف ہوتی ہے۔
اس لئے پہلے اس سے اجازت لینا قرین قیاس ہے۔
ویسے حکومت سے بھی آباد کاری اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔
2۔
ظالم رگ سے مراد وہ درخت بھی ہیں۔
جو کوئی کسی دوسرے زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے۔
یا مکان بنالے۔
اسے کہا جائے گا۔
کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھالے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہوجائے جیسے کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3073]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 777
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 777»
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 777»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.» تشریح:
ان دونوں احادیث میں زمین کو آباد کرنے اور اس میں فصل بونے‘ باغ لگانے اور پانی محفوظ کرنے کے لیے کنواں وغیرہ کھودنے کی اجازت ہے کہ جو کوئی بے آباد زمین آباد کرے گا وہ اسی کی ملکیت ہوگی۔
گویا اسلام میں بیکار زمین پڑی رہنے کا تصور نہیں۔
اسے بہرنوع آباد ہونا چاہیے۔
کسی ملک کے استحکام کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس سے انفرادی ملکیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
«أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.»
ان دونوں احادیث میں زمین کو آباد کرنے اور اس میں فصل بونے‘ باغ لگانے اور پانی محفوظ کرنے کے لیے کنواں وغیرہ کھودنے کی اجازت ہے کہ جو کوئی بے آباد زمین آباد کرے گا وہ اسی کی ملکیت ہوگی۔
گویا اسلام میں بیکار زمین پڑی رہنے کا تصور نہیں۔
اسے بہرنوع آباد ہونا چاہیے۔
کسی ملک کے استحکام کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس سے انفرادی ملکیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 777]
عروة بن الزبير الأسدي ← سعيد بن زيد القرشي