🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب في إحياء الموات
باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہو گا) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 38 (1378)، (تحفة الأشراف: 19043، 4463)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 24 (26) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کوئی ظالم اس کی آباد اور قابل کاشت بنائی ہوئی زمین کو چھین نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2944)
أخرجه الترمذي (1387 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن زيد القرشي، أبو الأعورصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← سعيد بن زيد القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3073
من أحيا أرضا ميتة فهي له ليس لعرق ظالم حق
بلوغ المرام
777
من أحيا أرضا ميتة فهي له
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3073 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3073
فوائد ومسائل:

چونکہ آج کل حکومت تمام زمینوں کی مالک اور متصرف ہوتی ہے۔
اس لئے پہلے اس سے اجازت لینا قرین قیاس ہے۔
ویسے حکومت سے بھی آباد کاری اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔


ظالم رگ سے مراد وہ درخت بھی ہیں۔
جو کوئی کسی دوسرے زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے۔
یا مکان بنالے۔
اسے کہا جائے گا۔
کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھالے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہوجائے جیسے کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3073]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 777
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 777»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.»
تشریح:
ان دونوں احادیث میں زمین کو آباد کرنے اور اس میں فصل بونے‘ باغ لگانے اور پانی محفوظ کرنے کے لیے کنواں وغیرہ کھودنے کی اجازت ہے کہ جو کوئی بے آباد زمین آباد کرے گا وہ اسی کی ملکیت ہوگی۔
گویا اسلام میں بیکار زمین پڑی رہنے کا تصور نہیں۔
اسے بہرنوع آباد ہونا چاہیے۔
کسی ملک کے استحکام کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس سے انفرادی ملکیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 777]