یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب فضل الصلاة على الجنائز وتشييعها
باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُسَيْنٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، وَصَلَّى عَلَيْهَا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ"، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ.
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3169]
جناب داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد (عامر رحمہ اللہ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ جناب خباب صاحبِ مقصورہ تشریف لائے اور کہا: ”اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص جنازے والے گھر سے اس کے ساتھ نکلا اور اس پر نماز پڑھی۔“”اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پچھوائی تو انہوں نے فرمایا: ”ابوہریرہ نے سچ کہا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الجنائز 17 (945)، (تحفة الأشراف: 12301، 16167) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (945)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3169 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3169
فوائد ومسائل:
شرعی مسائل کی معتبر ثقہ اور علمی شخصیات سے تصدیق وتوثیق کرلینی چاہیے۔
شرعی مسائل کی معتبر ثقہ اور علمی شخصیات سے تصدیق وتوثیق کرلینی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3169]
Sunan Abi Dawud Hadith 3169 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق