سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا
باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ، قَالَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ، أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3168]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”جو شخص جنازے کے ساتھ گیا اور پھر اس پر نماز پڑھی تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے، اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ (دفن سے) فراغت ہو گئی تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ ان دونوں قیراطوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے برابر ہو گا یا فرمایا کہ ان میں ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12559)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، سنن النسائی/الجنائز 79 (1996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 34 (1539)، مسند احمد (2/2، 233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 480، 493، 498، 503، 521) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الحميدي بتحقيقي (1027 وسنده صحيح) ورواه مسلم (945)
أخرجه الحميدي بتحقيقي (1027 وسنده صحيح) ورواه مسلم (945)
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُسَيْنٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، وَصَلَّى عَلَيْهَا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ"، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ.
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3169]
جناب داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد (عامر رحمہ اللہ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ جناب خباب صاحبِ مقصورہ تشریف لائے اور کہا: ”اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص جنازے والے گھر سے اس کے ساتھ نکلا اور اس پر نماز پڑھی۔“”اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پچھوائی تو انہوں نے فرمایا: ”ابوہریرہ نے سچ کہا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الجنائز 17 (945)، (تحفة الأشراف: 12301، 16167) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (945)
حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3170]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور پھر اس پر چالیس آدمی کھڑے ہو کر جنازہ پڑھیں، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں، تو اس میت کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 18 (948)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 19 (1489)، (تحفة الأشراف: 6354)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 40 (1029)، سنن النسائی/الجنائز 78 (1993)، مسند احمد (6/32، 40، 97، 231) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چالیس موحدین کا نماز جنازہ پڑھنا میت کی مغفرت کا سبب ہے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تلاش کر کے جنازے میں چالیس مسلمان جمع کرتے تھے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں سو مسلمانوں کا ذکر ہے، تو جب چالیس کی سفارش مقبول ہے تو سو کی بدرجہ اولی مقبول ہوگی، بإذن اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (948)