یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب الإسراع بالجنازة
باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ، فَرَفَعَ سَوْطَهُ، فَقَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
سیدنا عیینہ بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے اور ہم میت کو اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں پیچھے سے آن ملے تو انہوں نے اپنا کوڑا بلند کیا اور کہا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور (میت کو اٹھا کر) درمیانی چال سے دوڑ رہے ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 44 (1914)، (تحفة الأشراف: 11695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38) (صحیح)» (اس واقعہ میں عثمان بن ابی العاص کا نام وہم ہے، صحیح نام عبدالرحمن بن سمرہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله عثمان ابن أبي العاص شاذ والمحفوظ عبدالرحمن بن سمرة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
قوله عثمان بن أبي العاص وھم، والصواب في جنازة عبد الرحمن بن سمرة انظر الحديث الآتي (3183)
قوله عثمان بن أبي العاص وھم، والصواب في جنازة عبد الرحمن بن سمرة انظر الحديث الآتي (3183)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3182 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3182
فوائد ومسائل:
اس واقعہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر صحیح نہیں، عبد الرحمٰن بن سمرہ ہے کہ جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے۔
اس واقعہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر صحیح نہیں، عبد الرحمٰن بن سمرہ ہے کہ جیسا کہ درج ذیل روایت میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3182]
Sunan Abi Dawud Hadith 3182 in Urdu
عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني ← نفيع بن مسروح الثقفي