سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب كم يدخل القبر
باب: میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟
حدیث نمبر: 3209
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:" غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ،وَالْفَضْلُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُرَحَّبٌ، أَوِ ابْنِ أَبِي مُرَحَّبٍ، أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ، قَالَ: إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ".
عامر شعبی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔ شعبی کہتے ہیں: مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے (دفن سے) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی (مردے) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3209]
عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا علی، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا اور انہوں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔“ شعبی نے کہا کہ ”مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب (سوید بن قیس) نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے ساتھ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کیا تھا اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو کہا: ”تدفین وغیرہ کے عمل میں آدمی کے اپنے اہل کے افراد ہی حصہ لیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11246) (صحیح)» (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ دونوں مرسل روایات صحیح ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 118
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 118
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3209 in Urdu
عامر الشعبي ← مرحب الأنصاري