🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب في اللحد
باب: قبر میں لحد بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3208
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن النسائی/الجنائز 85 (2011)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1554)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1045) نسائي (2011) ابن ماجه (1554)
عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه،انظر التحرير (3731) وقال الھيثمي : ’’والأكثر علٰي تضعيفه ‘‘ (مجمع الزوائد 1/ 147)
ولحديثه شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 118

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
Newعبد الأعلى بن عامر الثعلبي ← سعيد بن جبير الأسدي
ضعيف الحديث
👤←👥علي بن عبد الأعلى الثعلبي، أبو الحسن
Newعلي بن عبد الأعلى الثعلبي ← عبد الأعلى بن عامر الثعلبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حكام بن سلم الكناني، أبو عبد الرحمن
Newحكام بن سلم الكناني ← علي بن عبد الأعلى الثعلبي
ثقة
👤←👥إسحاق بن إسماعيل اليتيم، أبو يعقوب
Newإسحاق بن إسماعيل اليتيم ← حكام بن سلم الكناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2011
اللحد لنا والشق لغيرنا
جامع الترمذي
1045
اللحد لنا والشق لغيرنا
سنن أبي داود
3208
اللحد لنا والشق لغيرنا
سنن ابن ماجه
1554
اللحد لنا والشق لغيرنا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3208 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3208
فوائد ومسائل:

قبر کا بڑا گڑھا کھود کر اس کے قبلہ رخ پہلو میں اندر کی طرف ایک گڑھا بنانا لحد کہلاتا ہے۔
اور اگرسیدھا نیچے کی سطح میں بنایا جائے تو اسے شق کہتے ہیں۔

زمین سخت ہو تو لحد بنانا مستحب ہے ورنہ شق بھی جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3208]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2011
بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
اردو حاشہ:
(1) یہ روایت اگرچہ اس سند سے ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی وجہ سے بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے اور یہی بات درست ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جامع ترمذی میں ان شواہد کی تصریح فرمائی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، حدیث: 1045)
(2) دوسروں کے لیے مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور شق اہل کتاب کے لیے ہے۔ (مسسند أحمد: 363/4) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقاً لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1557) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: 2009،2010)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2011]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1554
بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ لحد بنانا مستحب ہے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے اتفاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد ہی کھو دی گئی تھی۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، بشرح النووی، کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت: 49/48/7، حدیث: 966)
 لہٰذا جہاں لحد (بغلی قبر بن سکتی ہو وہاں لحد بنانا مستحب اورافضل ہے۔
البتہ شق (صندوقی قبر)
بنانا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔

(2)
لحد یعنی بغلی قبر سے مراد یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے پھر اس میں ایک طرف میت کے لئے جگہ بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے۔
اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کےلئے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھوداجائے۔

(3)
دونوں طرح قبر بنانا جائز ہے۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانوں میں دونوں طریقوں پر عمل ہوتا تھا۔
جیسے کہ آئندہ حدیث سے ظاہر ہے۔

(4)
شق (صندوقی قبر)
دوسروں کے لئے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں میں زیادہ شق (صندوقی قبر)
کا رواج ہے۔
اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر)
بناتے ہیں۔
 واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1554]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1045
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1045]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اہل کتاب کے لیے ہے،
مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «الَّلحْدُ لَنَا»  کا مطلب ہے «اللحد لِيْ» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا  «الَّلحْدُ لَنَا»  کا مطلب  «الَّلحْدُ اِخْتِيَارُنَا»  ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1045]

Sunan Abi Dawud Hadith 3208 in Urdu