🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب في تسوية القبر
باب: اونچی قبر کو برابر کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3219
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِرُودِسَ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رُودِسُ جَزِيرَةٌ فِي الْبَحْرِ.
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں ہم سر زمین روم میں رودس ۱؎ میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا، پھر وہ (دفن کے بعد) برابر کر دی گئی، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اسے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3219]
ابوعلی ہمدانی نے بیان کیا کہ ہم سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی معیت میں روم کی سرزمین میں جزیرہ روڈس میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا، سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے ان کی قبر کے متعلق کہا کہ اسے برابر کر دیا جائے پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کو برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ روڈس ایک سمندری جزیرے کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 31 (968)، سنن النسائی/الجنائز 99 (2032)، (تحفة الأشراف: 11026)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18، 21) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسکندریہ کے سامنے ایک جزیرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (969)
انظر الحديث السابق (968)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فضالة بن عبيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥ثمامة بن شفي الهمداني، أبو علي
Newثمامة بن شفي الهمداني ← فضالة بن عبيد الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← ثمامة بن شفي الهمداني
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2032
أمر فضالة بقبره فسوي ثم قال سمعت رسول الله يأمر بتسويتها
صحيح مسلم
2242
توفي صاحب لنا فأمر فضالة بن عبيد بقبره فسوي ثم قال سمعت رسول الله يأمر بتسويتها
سنن أبي داود
3219
أمر فضالة بقبره فسوي ثم قال سمعت رسول الله يأمر بتسويتها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3219 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3219
فوائد ومسائل:
روڈس۔
ترکی۔
کے جنوب مغربی ساحل سے 19 کلو میٹر دور ہے۔
اور یہ بحیرہ روم اور بحیرہ ایجہ کے اتصال پرواقع ہے مسلمانوں نے سب سے پہلے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں 52/53 ہجری میں جنادہ بن ابی امیہ ازدی کی قیادت میں یہاں قدم رکھے۔
مگر یزید کے عہد میں واپس چلے آئے۔
چودھویں پندرہویں عیسوی میں یہ جزیرہ صلیبی جنگوں کا مرکز بنا رہا۔
خلیفہ سلمان اعظم نے 1522ء میں اسے فتح کرکے سلطنت عثمانیہ میں شامل کرلیا۔
1912ء میں اس پر اٹلی قابض ہوا ور 1947 ء میں اتحادیوں نے روڈس یونان کے حوالے کردیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3219]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2032
قبریں اونچی بنائی گئی ہوں تو انہیں برابر کر دینے کا بیان۔
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر (زمین کے برابر کرنے کا) حکم دیا، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2032]
اردو حاشہ:
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ قبر کو زمین کے بالکل ہموار بنایا جائے کیونکہ اس طرح تو قبر اور غیر قبر کا پتا ہی نہیں چلے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قبر زیادہ اونچی نہ ہو بلکہ قبر کی اپنی مٹی کو ہموار کر دیا جائے، مزید مٹی نہ ڈالی جائے۔ یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قبر کو زمین کی طرح ہموار، یعنی چپٹی (مسطح) بنایا جائے، ٹیلے کی طرح نہ بنائی جائے تاکہ قبر اور ٹیلے میں امتیاز ہوسکے اور اس کے آداب ملحوظ رکھے جا سکیں۔ اور اگر ظاہر معنیٰ مراد ہو (یعنی قبر کو زمین کے بالکل ہموار کر دیا جائے) تو یہ اس قبر کی اصلاح ہوگی جسے بہت اونچی بنا دیا گیا ہو یا جہاں شرک کا اندیشہ ہو، تاکہ اس پر غیرشرعی کام نہ ہوسکیں۔ اس کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ کفار و مشرکین کی قبروں کا نام و نشان مٹایا جا سکتا ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے احاطے کی قبروں کو اکھاڑ دیا تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2032]

Sunan Abi Dawud Hadith 3219 in Urdu