سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب في تحويل الميت من موضعه للأمر يحدث
باب: کسی ضرورت سے مردے کو قبر سے نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3232
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ، فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا، إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3232]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میرے والد ایک دوسرے آدمی کے ساتھ دفن کیے گئے تو اس وجہ سے میرے جی میں تھا کہ ان کو وہاں سے نکال لوں۔ چنانچہ میں نے انہیں چھ ماہ بعد وہاں سے نکالا، تو ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی سوائے داڑھی کے چند بالوں کے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3110) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3232 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3232
فوائد ومسائل:
کوئی واقعی معقول مصلحت ہو تو میت کو اس کی پہلی قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے۔
کوئی واقعی معقول مصلحت ہو تو میت کو اس کی پہلی قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3232]
Sunan Abi Dawud Hadith 3232 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← جابر بن عبد الله الأنصاري