سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب في الثناء على الميت
باب: میت کی اچھائیوں اور خوبیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3233
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وجبت» ”جنت اس کا حق بن گئی“ پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: «وجبت» ”دوزخ اس کے گلے پڑ گئی“ پھر فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 50 (1935)، (تحفة الأشراف: 13538)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491)، مسند احمد (2/261، 466، 470، 499، 528) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عامر بن سعد البجلي عامر بن سعد البجلي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن عامر الجمحي إبراهيم بن عامر الجمحي ← عامر بن سعد البجلي | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← إبراهيم بن عامر الجمحي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر حفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3233
| إن بعضكم على بعض شهداء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3233 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3233
فوائد ومسائل:
1۔
جسے بھلائی سے یاد کیا گیا۔
اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور دوسرے کےلئے جہنم۔
2۔
حقیقت حال ہی تو اللہ کے علم میں ہے۔
مگر زندوں پر لازم ہے کہ اپنے مرنے والوں کو بھلائی سے یاد کریں۔
یا کم از کم خاموش رہیں۔
لوگوں میں جس کسی کا کوئی شہرہ ہوتا ہے۔
اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور ہوتی ہے۔
اس لئے چاہییے کہ انسان حق اور خیر اپنائے تا کہ اس کا ذکر خیر کے ساتھ ہو۔
1۔
جسے بھلائی سے یاد کیا گیا۔
اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور دوسرے کےلئے جہنم۔
2۔
حقیقت حال ہی تو اللہ کے علم میں ہے۔
مگر زندوں پر لازم ہے کہ اپنے مرنے والوں کو بھلائی سے یاد کریں۔
یا کم از کم خاموش رہیں۔
لوگوں میں جس کسی کا کوئی شہرہ ہوتا ہے۔
اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور ہوتی ہے۔
اس لئے چاہییے کہ انسان حق اور خیر اپنائے تا کہ اس کا ذکر خیر کے ساتھ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3233]
عامر بن سعد البجلي ← أبو هريرة الدوسي