یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لغو اليمين
باب: یمین لغو کا بیان۔
حدیث نمبر: 3254
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، قَالَ:قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ رَجُلًا صَالِحًا، قَتَلَهُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمِطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَكُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا.
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) «كلا والله وبلى والله» (ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی) کہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3254]
جناب عطاء رضی اللہ عنہ سے لغو قسم کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ قسم ہے جو آدمی اپنے گھر میں «كَلَّا وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ» ”نہیں، اللہ کی قسم! اور ہاں، اللہ کی قسم!“ وغیرہ بولتا رہتا ہے۔“ (اس کا تکیہ کلام ہوتا ہے اور قسم کا قصد نہیں ہوتا۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم صائغ ایک صالح آدمی تھے۔ ان کو ابومسلم نے مقام عرندس میں قتل کر دیا تھا۔ اور ان کا یہ معمول تھا کہ اگر ہتھوڑا اٹھایا ہوا ہوتا اور اذان سن لیتے تو وہیں چھوڑ دیتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو داود بن ابی فرات نے بواسطہ ابراہیم صائغ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف روایت کیا ہے اور ایسے ہی زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے بواسطہ عطاء، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17375) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یمین لغو ایسے قسمیہ الفاظ کو کہا جاتا ہے جو دوران گفتگو لوگوں کی زبان سے بلا قصد و ارادہ جاری ہو جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن حبان (1187 وسنده حسن) ورواه البخاري (6663 موقوفًا)
أخرجه ابن حبان (1187 وسنده حسن) ورواه البخاري (6663 موقوفًا)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥إبراهيم بن ميمون الصائغ، أبو إسحاق إبراهيم بن ميمون الصائغ ← عطاء بن أبي رباح القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حسان بن إبراهيم العنزي، أبو هشام حسان بن إبراهيم العنزي ← إبراهيم بن ميمون الصائغ | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس حميد بن مسعدة السامي ← حسان بن إبراهيم العنزي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3254
| هو كلام الرجل في بيته كلا والله وبلى والله |
بلوغ المرام |
1177
| لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ... هو قول الرجل لا والله وبلى والله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3254 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3254
فوائد ومسائل:
لغو قسم معاف ہے۔
اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔
تاہم آدمی کو اس سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی عادت بدلنی چاہیے۔
فرمایا۔
(لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ)(البقرہ۔
225) اللہ تمھیں تمھاری لغو قسموں پر نہ پکڑے گا البتہ اس کی پکڑ اس چیز پر ہے۔
جوتمہارےدلوں کا فعل ہو۔
لغو قسم معاف ہے۔
اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔
تاہم آدمی کو اس سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی عادت بدلنی چاہیے۔
فرمایا۔
(لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ)(البقرہ۔
225) اللہ تمھیں تمھاری لغو قسموں پر نہ پکڑے گا البتہ اس کی پکڑ اس چیز پر ہے۔
جوتمہارےدلوں کا فعل ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3254]
Sunan Abi Dawud Hadith 3254 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق