سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب من رأى عليه كفارة إذا كان في معصية
باب: معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ، وَتُهْدِيَ هَدْيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3296]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے نذر مانی کہ ”بیت اللہ کو پیدل ہی جائے گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ ”سوار ہو اور قربانی کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6197، 19121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/239، 252، 311)، سنن الدارمی/النذور 2 (2380) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی اس نذر کا کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
قتادة تابعه مطر الوراق عند ابن طھمان في مشيخته (29 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3303
| الله لغني عن مشي أختك فلتركب ولتهد بدنة |
سنن أبي داود |
3297
| الله لغني عن نذرها مرها فلتركب |
سنن أبي داود |
3296
| أمرها النبي أن تركب وتهدي هديا |
سنن أبي داود |
3295
| الله لا يصنع بشقاء أختك شيئا فلتحج راكبة ولتكفر عن يمينها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3296 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3296
فوائد ومسائل:
حج سے متعلق اس قسم کی نذر میں قربانی کرنا لازم کہا گیا ہے۔
اورکہا جاتا ہے کہ مستحب ہے خواہ قسم کھانے والا ضعیف اور عاجزہی ہو۔
(یہ روایت آگے بھی آرہی ہے۔
حدیث 3303)
حج سے متعلق اس قسم کی نذر میں قربانی کرنا لازم کہا گیا ہے۔
اورکہا جاتا ہے کہ مستحب ہے خواہ قسم کھانے والا ضعیف اور عاجزہی ہو۔
(یہ روایت آگے بھی آرہی ہے۔
حدیث 3303)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3296]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3303
معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، (تم اپنی بہن سے کہو کہ) وہ سوار ہو جائیں اور (نذر کے کفارہ کے طور پر) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3303]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، (تم اپنی بہن سے کہو کہ) وہ سوار ہو جائیں اور (نذر کے کفارہ کے طور پر) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3303]
فوائد ومسائل:
3293 نمبر حدیث میں یہ روایت گزری ہے۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
اور اس میں روزوں کی جگہ قربانی کرنے کا ذکر ہے۔
جس میں روزوں کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔
اور یہ قربانی والی روایت صحیح ہے۔
شیخ البانی نے بھی الارواء (221تا 218/8) میں ا س کو محفوظ قرار دیا ہے۔
3293 نمبر حدیث میں یہ روایت گزری ہے۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
اور اس میں روزوں کی جگہ قربانی کرنے کا ذکر ہے۔
جس میں روزوں کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔
اور یہ قربانی والی روایت صحیح ہے۔
شیخ البانی نے بھی الارواء (221تا 218/8) میں ا س کو محفوظ قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3303]
Sunan Abi Dawud Hadith 3296 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي