🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب من نذر أن يصلي في بيت المقدس
باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًا، وَقَالَ عَبَّاسٌ ابْنُ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا، لَأَجْزَأَ عَنْكَ صَلَاةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ: أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعْن رِجَالٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3306]
جناب عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی ایک صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ خبر روایت کی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ تیری بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے کفایت کر جاتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس روایت کو (محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ) الانصاری نے ابن جریج سے روایت کیا تو (سند کے راویوں میں حفص بن عمر کی بجائے) جعفر بن عمرو کہا اور ایسے ہی (عمرو بن حنہ کی بجائے) عمرو بن حیہ کہا (یاء کے ساتھ) اور کہا کہ ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/373) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة یوسف، حفص، عمر وبن عبدالرحمن سب کے سب لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يوسف بن الحكم مستور،لم يوثقه غير ابن حبان و في التحرير (7859) : ’’ مجهول الحال ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عمر بن عبد الرحمن القرشي، أبو حفص
Newعمر بن عبد الرحمن القرشي ← اسم مبهم
مقبول
👤←👥عمرو بن حنة الحجازي
Newعمرو بن حنة الحجازي ← عمر بن عبد الرحمن القرشي
مقبول
👤←👥حفص بن عمر الزهري
Newحفص بن عمر الزهري ← عمرو بن حنة الحجازي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يوسف بن الحكم الطائفي
Newيوسف بن الحكم الطائفي ← حفص بن عمر الزهري
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← يوسف بن الحكم الطائفي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← روح بن عبادة القيسي
ثقة حافظ
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← العباس بن عبد العظيم العنبري
ثقة ثبت
👤←👥مخلد بن خالد الشعيري، أبو محمد
Newمخلد بن خالد الشعيري ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3306 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3306
فوائد ومسائل:
اگر کسی خاص جگہ عبادت کی نذر مانی ہو تو جائز ہے۔
کہ اس سے افضل جگہ میں اپنی نذر پوری کرلے سب سے افضل مسجد بیت اللہ الحرام۔
بعد ازاں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر بیت المقدس ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3306]

Sunan Abi Dawud Hadith 3306 in Urdu