🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في التشديد في الدين
باب: قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3341
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكُمْ إِلَّا خَيْرًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَدَّى عَنْهُ، حَتَّى مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمْعَانُ بْنُ مُشَنِّجٍ.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور پوچھا: کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟ مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا: کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟ لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہ بارہ پوچھا: کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا مانع ہوا تھا کہ پہلی اور دوسری بار جواب نہیں دیا تھا؟ بلاشبہ میں نے تمہارے لیے خیر ہی کا ارادہ کیا ہے۔ تمہارا ساتھی اپنے قرضے میں پکڑا ہوا ہے۔ (سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) پھر میں نے اس شخص کو دیکھا کہ اس نے اس (مقروض) کی طرف سے سب ادا کر دیا حتیٰ کہ کوئی مطالبہ کرنے والا باقی نہ رہا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (شعبی کے شیخ کا نام) سمعان بن مشنج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/البیوع 96 (4689)، (تحفة الأشراف: 4633)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/11، 13، 20) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی قرض کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ جنت میں جا نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4689)
قال البخاري :’’ لا نعرف لسمعان سماعًا من سمرة ولاللشعبي سماعًا منه‘‘ (التاريخ الكبير 204/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥سمعان بن مشنج العمري
Newسمعان بن مشنج العمري ← سمرة بن جندب الفزاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← سمعان بن مشنج العمري
ثقة
👤←👥سعيد بن مسروق الثوري، أبو سفيان
Newسعيد بن مسروق الثوري ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سعيد بن مسروق الثوري
ثقة متقن
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3341
ما منعك أن تجيبني في المرتين الأوليين أما إني لم أنوه بكم إلا خيرا إن صاحبكم مأسور بدينه فلقد رأيته أدى عنه حتى ما بقي أحد يطلبه بشيء
سنن النسائى الصغرى
4689
ما منعك في المرتين الأوليين أن لا تكون أجبتني أما إني لم أنوه بك إلا بخير إن فلانا لرجل منهم مات مأسورا بدينه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3341 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3341
فوائد ومسائل:
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4689
قرض کی شناعت کا بیان۔
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
اردو حاشہ:
گرفتار ہے یا جنت میں جانے سے رکا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض جلدی ادا کیا جائے تاکہ وہ رہا ہو سکے یا جنت میں داخل ہو سکے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4689]

Sunan Abi Dawud Hadith 3341 in Urdu