🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب في الصرف
باب: بیع صرف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3350
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَزَادَ، قَالَ: فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے (قسم مختلف ہو جائے) تو جس طرح چاہو بیچو (مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3350]
ابواشعث صنعانی نے یہ حدیث بواسطہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قدر کمی بیشی سے روایت کی ہے اور اضافہ یہ کیا: جب یہ انواع مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو جبکہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5089) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1587)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥شراحيل بن آده الصنعاني، أبو الأشعث
Newشراحيل بن آده الصنعاني ← عبادة بن الصامت الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← شراحيل بن آده الصنعاني
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← خالد الحذاء
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3350 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3350
فوائد ومسائل:

ہم جنس اشیاء کی باہمی خریدوفروخت کے بارے میں اسلام ن جو ضابطہ دیا ہے اس کے حوالے سے آج کل یہ سوال پوچھا جاتا ہے۔
کہ اگر ایک جنس مثلا کھجور۔
بہتر قسم کی ہو۔
اور دوسری گھٹیا کوالٹی کی ہو تو دونوں کو ہم مقدار رکھنا کیسے قرین انصاف ہوسکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
اسلام ہر صورت میں عدل وانصاف کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔
اسی لئے ان اشیاء کی خریدوفروخت میں جو انسانی غذا کا بنیادی حصہ ہیں۔
خصوصیت کے ساتھ عدل پرزور دیا ہے۔


ہرنوع کی کھجور یا گندم بنیادی طور پرانسان کی بھوک مٹاتی ہے۔
اگر محض تنوع یا ذائقے میں فرق رکھنے کےلئے تبادلہ مقصود ہے تو بلاشک تبادلہ کرلو بھوک مٹانے میں دونوں برابر ہیں۔
تبادلے میں دونوں کی مقدار برابر رکھو یہی انصاف کا تقاضا ہے۔


اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے۔
کہ غذائی ضرورت پوری کرنے میں ایک نوع دوسری سے بہتر ہے مثلا یہ کہ ایک نوع کی نسبتاً کم مقدار دوسری نوع کی زیادہ مقدار کے برابر بھوک مٹاتی ہے۔
یا ایک کا ذائقہ اتنا بہتر ہے کہ دوسری نوع کی زیادہ مقدار پہلی نوع کے مقابلے میں ہونی چاہیےتو عام آدمی کے پاس ایسا کوئی آلہ کوئی ترازو موجود نہیں جو عدل وانصاف کے مطابق ایک کوالٹی کے دوسری کوالٹی سے تبادلے میں دونوں کی مقداریں صحیح طور پر متعین کرسکے۔
اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حل یہ عطا فرمایا کہ گھٹیا کوالٹی کی نقدی کے ذریعے سے قیمت طے کرلو اور اسے نقدی کے عوض بیچ دواسی طرح اعلیٰ کوالٹی کی قیمت بھی بذریعہ نقدی طے کرلو اور اسے نقدی کے عوض خرید لو اس طرح عد ل وانصاف کے تقاضے صحیح معنی میں پورے ہوجایئں گے۔
کوالٹی کا فرق کتنا ہے اس کو وزن یا ماپ کے ذریعے سے متعین نہیں کیا جا سکتا۔
قیمت کے ذریعے سے متعین کیا جاسکتا ہے۔
کوالٹی کے تعین کےلئے قیمت میں ایک ہی جانبدار او مناسب ترین ذریعہ ہے۔


اگر قیمت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
محض وزن میں کمی زیادتی کے ذریعے سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو دونوں میں سے کسی ایک فریق کا حق مارا جائے گا۔
کوالٹی کا فرق متعین کرنے کےلئے وزن کو معیار بنایا جائے۔
تو تراضی یا باہمی رضا مندی کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے ا سی لئے بیع جائز نہیں ہوسکتی۔


اس سلسلے میں ایک اور سوال کافی عرصے سے زیر بحث چلا آرہا ہے کہ برابری دست بدست تبادلے کی شرط محض ان چھ اشیاء کی خریدوفروخت میں ہے۔
یا ان جیسی دوسری اشیاء کی بیع کےلئے بھی ہے۔
ظاہری (وہ لوگ جو قرآن یا حدیث کے ظاہری معنی تک محدودرہتے ہیں۔
) حدیث میں مذکور محض ان چھ اشیاء کےلئے اس حکم کو محدود رکھتے ہیں۔
باقی اشیاء میں اگر ہم جنس کا تبادلہ کمی بیشی سے ہویا ادھار تو اسے ربوالفضل قرار نہیں دیتے۔
لیکن باقی تمام مکاتب فکردوسری اشیاء کو بھی ان پر قیاس کرتے ہیں۔
اور یہی درست نقطہ نظرہے۔


پاکستان اور ارد گرد کے ملکوں میں جس طرح گندم بنیادی غذائی جنس ہے۔
اس طرح مشرق بعید (ملائشیا۔
انڈونیشیا۔
جاپان کوریا وغیرہ) میں چاول خورا ک کا بنیادی حصہ (سٹیپل فوڈ) ہے عرب اور ارد گرد کے ممالک میں جو حیثیت کھجور کی ہے۔
پاکستان کے شمالی حصوں بلتستان وغیر ہ میں وہی حیثیت خوبانی کی او بحیرہ روم کے علاقوں میں کشمش کی ہے۔
اس لئے ان اشیاء کو گندم جو اور کھجور پر قیاس کرنا چاہیے۔


قیاس کی بنیادی وجہ (علت قیاس) کے بارے میں البتہ مختلف مکاتب فکر میں اختلاف ہے، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک سوناچاندی (نقدین) پر جن کے لین دین کا دارومدار وزن پر ہے۔
کسی اور چیز کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
البتہ باقی چار چیزوں پر قیاس ضروری ہے۔


امام املک کے نزدیک جو چیزیں غذا کا بنیادی حصہ ہیں۔
اور ان کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
ان میں اگر ایک جنس کا تبادلہ اسی جنس سے کیا جا رہا ہے۔
تو انہیں حدیث میں مذکور چار غذائی اشیاء پرقیاس کیا جائےگا۔
اور ان کا سودا نقداور برابر کرنا ہوگا۔
امام شافعی مطلقا تمام غذائی اجناس کو ان چار پر قیاس کرتے ہیں۔


احناف کے ہاں حدیث میں چھ کی چھ اشیاء میں بنیادی وجہ قیاس یہ ہے کہ ان کا لین دین ناپ تول کے ذریعے سے ہوتا ہے۔
ان کے نزدیک ہر وہ شے جو ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی ہے۔
اس کا حکم وہی ہوگا جو حدیث میں چھ اشیاء کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

10۔
امام شوکانی کہتے ہیں کہ تمام علمائے اہل بیت کی رائے یہی ہے اور امام ابو حنیفہ نے اپنا مسلک انہیں سے لیا ہے۔
(نیل الأوطار،کتاب البیوع، باب مایجری فیه الریا)
11۔
اما م مالک کے مسلک میں سب سے زیادہ وسعت اور آسانی پائی جاتی ہے۔
یعنی سونا چاندی یا کرنسی کے علاوہ ان اشیاء کو حدیث میں ذکر کردہ چار اشیاء پر قیاس کرنا چاہیے۔
جو کسی جگہ انسانی غذا کا بنیادی حصہ ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب میں بہت سی اشیاء موجود تھیں۔
جن کا لین دین ناپ اور تول کے ذریعے سے ہوتا تھا۔
آپ نے صرف ان چار اشیاء کا نام لیا ہے۔
جو اس معاشرے کی بنیادی غذا تھیں۔
لیکن آپ نے ان میں سے کسی اور چیز کو ان چار چیزوں کے ساتھ شامل نہیں فرمایا۔

12۔
حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انواع مختلف ہونے کی تفصیل بیان فرما دی ہے۔
چاندی کے بدلے سونا جو کے بدلے گندم وغیرہ فروخت کی جائے۔
تو کمی بیشی جائز ہے۔
ادھار جائز نہیں۔

13۔
مدی (میم پرپیش اور دال ساکن ہے)علاقہ شام اور مصر میں مروج غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جس میں 522صاع آتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3350]

Sunan Abi Dawud Hadith 3350 in Urdu