سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب في النهى عن الحكرة
باب: ذخیرہ اندوزی منع ہے۔
حدیث نمبر: 3448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:" لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ"، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ: عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ: لَا تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ. و أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ سُفْيَان، عَنْ كَبْس الْقَتِّ، فَقَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ، وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، فَقَالَ: اكْبِسْهُ.
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو (کوئی حرج نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3448]
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”کھجور میں ذخیرہ اندوزی (روک رکھنا جائز) نہیں ہے۔“ ابن مثنی نے حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہ بات بیان کی، تو ہم نے اس سے کہا: ”حسن کے متعلق یہ نہ کہیں۔“ (یعنی اس بات کی نسبت ان کی طرف نہ کریں)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”یہ روایت ہمارے نزدیک باطل ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ: ”جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ گٹھلی دار پھل (کھجور اور کشمش وغیرہ)، پتے (جانوروں کا چارا) اور (قابل کاشت) بیج ذخیرہ رکھتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے احمد بن یونس رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے جناب سفیان رحمہ اللہ سے برسیم حجازی (جانوروں کے چارے) کو دبانے (روکنے) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ: ”لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) ذخیرہ اندوزی کو مکروہ سمجھتے تھے۔“ میں نے ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ: ”ذخیرہ کر سکتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن فياض :لين الحديث (تق : 7624)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
إسناده ضعيف
يحيي بن فياض :لين الحديث (تق : 7624)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3448 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3448
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
ان تمام آثار کے ذکر سے امام ابودائود واضح کرنا چاہتے ہیں۔
کہ انہیں اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔
جن کا تعلق انسانوں یا جانوروں کی بنیادی غذا سے ہے۔
فائدہ۔
ان تمام آثار کے ذکر سے امام ابودائود واضح کرنا چاہتے ہیں۔
کہ انہیں اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔
جن کا تعلق انسانوں یا جانوروں کی بنیادی غذا سے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3448]
Sunan Abi Dawud Hadith 3448 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري