🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في النهى عن الحكرة
باب: ذخیرہ اندوزی منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3447
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ"، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ: وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ، مَا الْحُكْرَةُ؟ قَالَ: مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: الْمُحْتَكِرُ مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ.
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3447]
سیدنا معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ بنو عدی بن کعب کے فرد ہیں، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نافرمان اور گناہ گار آدمی ہی ذخیرہ اندوزی کر سکتا ہے۔ (محمد بن عمرو نے) کہا: میں نے جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ بھی تو ذخیرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا معمر رضی اللہ عنہ بھی ذخیرہ کیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ «حُكْرَة» (ذخیرہ اندوزی) کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ چیزیں جن پر لوگوں کی گزران ہو (ان کا ذخیرہ کرنا منع ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ذخیرہ اندوز وہ ہوتا ہے جو بازار آتا جاتا رہے۔ (بازار پر نظر رکھے اور اہم چیزیں خرید کر روک لے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 26 (1605)، سنن الترمذی/البیوع 40 (1267)، سنن ابن ماجہ/التجارات 6 (2154)، (تحفة الأشراف: 11481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 453، 6/400)، سنن الدارمی/البیوع 12 (2585) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1605)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معمر بن أبي معمر القرشيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← معمر بن أبي معمر القرشي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن عمرو العامري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو العامري ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن يحيى الأنصاري
Newعمرو بن يحيى الأنصاري ← محمد بن عمرو العامري
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← عمرو بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥وهبان بن بقية الواسطي، أبو محمد
Newوهبان بن بقية الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4122
من احتكر فهو خاطئ
صحيح مسلم
4123
لا يحتكر إلا خاطئ
جامع الترمذي
1267
لا يحتكر إلا خاطئ
سنن أبي داود
3447
لا يحتكر إلا خاطئ
سنن ابن ماجه
2154
لا يحتكر إلا خاطئ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3447 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3447
فوائد ومسائل:
ایسی تمام چیزیں جن پر انسانوں یا ان کے جانوروں کی گزران ہو اور وہ کسی کے پاس فروخت کےلئے رکھی ہوں۔
اور بازار میں ان کی قلت ہوجائے۔
پھر انہیں اس غرض سے روکے رکھے کہ مذید مہنگی ہوں گی۔
تو فروخت کروں گا۔
ذخیرہ اندوزی ہے۔
جس کی حرمت آئی ہے۔
اگر بازار میں وہ چیز حسب طلب موجود ہو یا کسی نے اپنی ضرورت کےلئے رکھی ہو تو اسے روکنا ممنوع ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔
قلت اور قحط کے ایام میں روکنا حرام ہے۔
جناب سعید بن مسیب۔
اور حضرت معمر کا عمل بھی اسی دوسری صورت کے مطابق تھا۔
بعض آئمہ کرام بنیادی غذائوں کےعلاوہ پھلوں اور دوسری چیزوں کو روک رکھنا مباح سمجھتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3447]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2154
ذخیرہ اندوزی اور جلب کا بیان۔
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذخیرہ اندوزی صرف خطاکار کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2154]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
  ذخیرہ اندوزی کا مطلب یہ ہے کہ جب عوام کو کسی چیز کی زیادہ ضرورت ہو، تاجر اس وقت اپنا مال روک لے تا کہ قیمت اور بڑھ جائے۔
اس میں لالچ اور خود غرضی پائی جاتی ہے۔
ایسے شخص کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ عوام مصیبت میں مبتلا ہوں تا کہ وہ دولت جمع کرسکے۔
اس قسم کی خواہشات ایک مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔

(2)
  ذخیرہ اندوزی شرعاً ممنوع ہے، اور ممنوع کام کے ارتکاب سے روزی میں حرام شامل ہوجاتا ہے۔

(3)
  گناہ گار کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ ایسا غلط کام وہی کرسکتا ہے جو گناہوں کا عادی ہوچکا ہو۔
جس سے کبھی کبھار کوئی گناہ کا کام ہوجاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔

(4)
  اپنی ذاتی ضروریات کے لیے مناسب مقدار میں چیز خرید رکھ لینا ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں، مثلاً:
اگر کوی شخص اپنے گھر میں استعمال کے لیے سال بھی کی ضروریات کے مطابق فصل کے موسم میں غلہ خرید لیتا ہے تو وہ مجرم نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2154]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1267
ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: گنہگار ہی احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرتا ہے ۱؎۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن المسیب سے کہا: ابو محمد! آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1267]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
احتکار:
ذخیرہ اندوزی کوکہتے ہیں،
یہ اس وقت منع ہے جب لوگوں کو غلّے کی ضرورت ہو تو مزید مہنگائی کے انتظارمیں اسے بازار میں نہ لایا جائے،
اگربازار میں غلّہ دستیاب ہے تو ذخیرہ اندوزی منع نہیں۔
کھانے کے سوا دیگرغیرضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1267]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4122
حضرت معمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ذخیرہ اندوزی کی ہے، وہ قصوروار ہے۔ تو اس حدیث کے راوی حضرت سعید سے پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں؟ سعید نے جواب دیا، یہ حدیث بیان کرنے والے حضرت معمر رضی اللہ تعالی عنہ خود ذخیرہ کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4122]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
احتكار،
حَكَر سے ماخوذ ہے،
جس کا معنی ہے جمع کرنا،
روک لینا،
اس لیے حكره کا معنی ہوتا ہے،
مہنگا بیچنے کے لیے روک لینا،
یا جمع کرنا۔
فوائد ومسائل:
ائمہ اربعہ کے نزدیک،
غذائی اشیاء کو ذخیرہ کرنا،
تاکہ ان کو مہنگا بیچا جا سکے،
ناجائز ہے،
اور غذائی اشیاء کے سوا،
دوسری اشیاء کا ذخیرہ کرنا،
ناجائز نہیں ہے،
اور حضرت معمر اور سعید،
زیتون کے تیل کا ذخیرہ کرتے تھے،
امام ابن قدامہ حنبلی نے ناجائز احتکار کے لیے تین شروط بیان کی ہیں۔
(1)
چیز بازار سے خرید کر ذخیرہ کرے،
اپنے کھیت کی چیز کا سٹاک کر لینا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔
(2)
ایسی چیز ذخیرہ کی جائے،
جو غذا کے کام آتی ہو،
اس لیے،
سالن،
شہد،
حلوا،
زیتون کا تیل اور جانوروں کا چارہ اس میں داخل نہیں ہے۔
(3)
چیز پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا جائے،
وہ بازار سے دستیاب نہ ہو،
اور لوگوں کو اس کی ضرورت ہو،
اگر چیز بازار میں دستیاب ہو تو یہ احتکار نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4122]

Sunan Abi Dawud Hadith 3447 in Urdu