سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب في النهى عن الغش
باب: خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے۔
حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا، لَيْسَ مِثْلَنَا.
یحییٰ کہتے ہیں سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» (ہماری طرح نہیں ہے) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18769) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ ڈرانے و دھمکانے کا موقع ہے جس میں تغلیظ و تشدید مطلوب ہے، اور اس تفسیر میں یہ بات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله | |
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي الحسن بن الصباح الواسطي ← علي بن المديني | صدوق حسن الحديث |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3453 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3453
فوائد ومسائل:
فائدہ [لیس منا] کامعنی ہم میں سے نہیں۔
اور [لیس مثلنا] کے معنی ہیں۔
ہماری مثل اورہمارے جیسا نہیں۔
اور امام سفیان رحمہ اللہ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ غلط کام سے ڈرانے اور روکنے کےلیے شدت اور سختی ہی مفید ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےالفاظ کی نرم نرم تعبیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
ان الفاظ کو ایسے ہی بیان کرنا چاہیے جیسے کہےگئے ہیں۔
فائدہ [لیس منا] کامعنی ہم میں سے نہیں۔
اور [لیس مثلنا] کے معنی ہیں۔
ہماری مثل اورہمارے جیسا نہیں۔
اور امام سفیان رحمہ اللہ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ غلط کام سے ڈرانے اور روکنے کےلیے شدت اور سختی ہی مفید ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےالفاظ کی نرم نرم تعبیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
ان الفاظ کو ایسے ہی بیان کرنا چاہیے جیسے کہےگئے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3453]
علي بن المديني ← يحيى بن سعيد القطان